کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 54
ووٹ اور الیکشن کے معاملہ میں ہمارہ کی پوزیشن کو صاف صاف، ذہین نشین کر لیجئے۔پیش آمدہ انتخابات یا آئندہ آنے والے انتخابات کی اہمیت جو کچھ بھی ہوا ور ان کا جیسا کچھ بھی اللہ ہماری قوم یا ملک پر پڑتا ہو بہر حال ایک با اصولی جماعت ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے یہ ناممکن ہے کہ کسی وقتی مصلحت کی بناء پر ہم ان اصولوی کی قربانی گوارا کر لیں۔جن پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ ا ترجمان القرآن ضروری ۱۹۲۶ ۶ (۱۳۵۰) اس کے بعد انہوں نے فروری ۱۹۳۶ء میں نظریہ پاکستان کی مخالفت میں انتقال نگیز مضمون لکھا جس میں کہا۔رہے وہ علاقے جہاں مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہے تو اگر بالفرض وہ پاکستان کی صورت نہیں خود مختار ہو جائیں۔۔۔۔۔۔تو جو حالات اس وقت پائے جاتے ہیں ان نہیں یہ ممکن نہیں ہے کہ آزاد پاکستان کے نظام کو اسلامی دستور میں تبدیل کیا جا سکے۔کیونکہ حنت المقار میں رہنے والے لوگ اپنے خوابوں میں خواہ کتنے ہی سبز باغ دیکھا ہے ہوں لیکن آزاد پاکستان را گردہ فی الواقع بنا بھی تو ) ناز کا جمہوری لا دینی اسٹیٹ کے نظریہ پر بنے گا۔" رتر جمان القرآن فروری ۱۹۲۶ ۱۹۲) پھر اپنا ایک جدید پر وگرام بیان کرنے کے بعد لکھا :۔چونکہ منزل حق یہی ہے اس لئے ہم اس کی طرف دوڑتے ہوتے