کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 74
نے نظم و نسق مذہبی جوش اور تبلیغ اسلام میں مرزائیوں پر فوقیت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھائی۔لیکہ بیشتر فتوں اور عام مخالفت سے فتنہ قادیان کا سد باب کرنا چا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کسی قوم کے ساتھ بیجا سختی کی جائے تو اس میں ایشیار اور قربانی کی خواہش بڑھ جاتی ہے چنانچہ جب کبھی عام مسلمانوں نے قادیانیوں کی مخالفت میں معمولی اخلاق اسلامی تہذیب اور رواداری کو ترک کیا ہے تو ان کی مخالفت سے قادیانیوں کو فائدہ ہی پہنچا ہے ان کی جماعت میں ایشیار اور قربانی کی طاقت بڑھ گئی ہے اور ان کے عقائد اور بھی مستحکم ہو گئے ہیں۔(موج کوثر ص ۱۹)۔جناب مودودی صاحب کا دعوی تھا کہ وہ اقامت دین کیلئے کھڑے ہوئے ہیں۔مگر انہوں نے لائنا بزوا بالا نقاب کے صریح قرآنی ارشاد کے باوجود اس رسالہ کا نام قادیانی مسئلہ" رکھا۔حالانکہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے اپنی جماعت کا نام احمدی جماعت رکھا ہے اور اپنے معتقدین کو احمد کی کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔آپ سے نہایت ادید سے اس روش پر نظر ثانی کی درخواست بھی کی گئی مگر انہوں نے یہ کیکڑ ٹائی دیا کہ عرف عام میں ان کا نام قادیانی رائج ہو چکا ہے۔از جان القرآن جلد ۳۶ عش ۶ صفحه ۳۰۳) انسوس یا عرف عام میں مشہور القاب ہی سے اجتناب کرنیکا حکم اللہ تعالے نے دیا تھا۔سرگرا آبی پہنا نے اسٹی عرف عام کو سند نیا لیا !! مگر میں نیا نا چا ہتا ہوں کہ یہ تو الفان کا محض محمد رگناہ تھا۔وگرنہ قادیانی " کا لفظ استعمال کرتے ہوتے ان کے سامنے ایک خاص وجہ تھی۔جیسے میں آپ ہی کے الفاظ میں تحریر کر دیتا ہوں۔فرماتے ہیں :۔