کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 52
۱۹۴۶-۴۵ء کے سال مسلمانان ہند کی سیاسی جد و جہاد میں انقلابی سال تھے۔کیونکہ ان میں ملکی انتخابات ہوئے جس میں مسلمانوں کی اکثریت نے پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالئے۔یہ قومی جد و جہد کا زیر دست معرکہ تھا جس میں دوسرے مسلمانوں کے دوش بدوش جماعت احمدیہ نے بھی گذشتہ روایات کے مطابق یہ جوش حصہ لیا۔جناب ابوالکلام آزاد کے ساتھیوں نے مسلم لیگ میں احمدیوں کی شمولیت پر اعتراض اٹھایا تو مشہور الملحدیث عالم میرا ابراہیم صاحب سیالکوٹی مرحوم نے اس کے جواب میں یہا تک لکھا کہ احمد یوی کا اس اسلامی جھنڈے کے نیچے آ جانا اس کی دلیل ہے کہ تمھی مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔وجہ یہ کہ احمد سی لوگ کانگریس میں تو شامل ہو نہیں سکتے کیونکہ وہ خالص مسلمانوں کی جماعت نہیں ہے اور نہ احرار میں شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ سب مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ صرف اپنی احراری خیانت کے لئے لڑتے ہیں بین کی امداد پر کانگریسی جماعت ہے۔اور حديث الدين النصيحة" کی تفصیل میں خود رسول مقبول نے عامر مسلمین کی خیر خواہی کو شمار کیا ہے۔(صحیح مسلم ، ہاں اس وقت مسلم لیگ ہمیں ایک ایسی جماعت ہے جو خالص مسلمانوں کی ہے۔اس میں مسلمانوں کے سب فرقے شامل ہیں۔پس احمدی صاحبان بھی اپنے آپ کو ایک اسلامی فرقہ جانتے ہوئے اس میں شامل ہو گئے جس طرح کہ اہلحدیث اور حنفی اوررر شیعہ و غیر مسلم شامل ہونے اور اس امر کا افزار کہ احمدی لوگ