کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال

by Other Authors

Page 50 of 89

کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 50

ان کا دنیا میں استغراق اور خدا کے ساتھ ان کا منافقانہ رویہ صرف ایسے امام پسند کرتا ہے جو بستیوں کے پیشہ ورکمینوں کی طرح ایک تم کے کمین بن کر ان کی مسجدوں میں رہیں۔اور ان کی دی ہوئی روٹیائی کھا کہ پیش نمازی کا کام میں اس طرح انجام دیا کریں جس طرح وہ ان سے لینا چاہتے ہیں۔پس خرابی یہ نہیں کہ جسم یعنی مسلم سوسائٹی) زندہ ہے مگر کسی حادثہ سے اس کے دل ریعنی مسجد) پر جمود و سکون طاری ہو گیا۔بلکہ حقیقی خرابی یہ ہے کہ جسم خود ٹھنڈا ہو گیا ہے اور اس نے بالآخر دل کو ٹھنڈا کر کے چھوڑا ہے۔درو داد جماعت اسلامی حصہ سوم طالات (۱۰۲) دستور جماعت اسلامی میں چود سکہ یہ شرط بھی رکھی گئی تھی کہ صالحین دو سر لوگوں سے جو خدا سے غافل اور فساق ہوں۔بالکل قطع تعلق کر لیں۔ردستور جماعت اسلامی ۱۹۲ء صلا، اس لئے جماعت کے بعض ارکان کی طرف سے جب یہ تجوینہ پیش کی گئی کہ ارکان اپنی اور اپنے بچوں کی شادیاں صرف دیندار لڑکی یا لڑکے سے کریں تو امیر جماعت اسلامی جناب مودودی صاحب نے فرمایا :- یہ ایسی چیز نہیں ہے جسے تجویز کی حیثیت سے پیش کیا جائے یہ تو حقیقتی دینی شعور پیدا ہو جانے کا لازمہ اور اس کا قطر نی نتیجہ ہے جس آدمی میں بھی یہ شعور پیدا ہو جائے گا وہ لانگا دین سے پھرے ہوئے اور اخلاقی حیثیت سے گرے ہوئے لوگوں کو شادی بیاہ کے تعلق کے لئے تو در کنانہ دوستی در نشینی کے لئے بھی پسند نہ کرے گا۔اور اگر