کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 43
خیر یہ بات تو برسبیل تذکرہ آگئی۔میں یہ عرض کر رہا تھا کہ جناب سید ابوالاعلی احب مودودی نے جماعت اسلامی قائم کرنے کے لئے مختلف دوستوں کالا ہو ی سید جستماع کیا۔اس اجتماع میں جو پچھتر نفوس پر مشتمل تھا۔آپ نے دستور حبت اسلامی" کا مسودہ پڑھ کر سنا یا جو بعض ترمیمات اور اضافوں کے اتفاق رائے سے پاس ہو گیا۔دستور کی دفعہ ۳ میں نظام سماعت کے میں یہ قرار پایا کہ اس جماعت میں کوئی شخص محض اس مفروضہ پر شامل نہیں ہو سکتا کہ جب وہ مسلمان گھر میں پیدا ہوا ہے۔اور اس کا نام مسلمانوں کا سا ہے تو ضرور مسلمان ہو گا کا در دستور جماعت اسلامی طبع اول مشتنا ) استور میں بہت سی شرائط مزید ایسی عائد کی گئیں۔جنہیں جماعت اسلامی" میں غیرت کے بعد پورا کرنا ضروری تھا۔مثلاً اگر کوئی شخص کسی غیر الہی نظام کی طرفف نے سے خطاب رکھتا ہو۔تو اس کو واپس کرے" (صفحہ ۱۱ زیر دفعہ ہم ) وہ اکثر سرا قبال اگر اس وقت زندہ ہوتے تو انہیں جماعت اسلامی کا ممبر بنات سے انکار کر دیا جاتا کیونکہ برطانوی حکومت نے ان کو اور ان کے کہنے پر اُن کے استاد میر حسن صاحب سیا لکوٹی کو خطاب دے رکھا تھا ) جماعت اسلامی میں داخل ہونے والوں کو تین طبقوں میں تقسیم کرنے کا فیصد مواد و لیسے اشخاص جوتن من دھن سے جماعت میں شریک ہوں جو اسلامی * نا یہ اجتماع دفتر از جمان القرآن پونچھ روڈ مبارک پارک لاہور میں منعقد ہوا تھا۔یہ مسودہ آپ سیاسی کشمکش حصہ سوم میں شائع کر چکے تھے۔۔