کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 42
عقیدہ کو غالباً چھیڑا نک نہیں۔مگر مشرقی صاحب نے اس عقیدہ کو اس کی بنیاد سے اکھیڑ پھینکا ہے۔۔۔۔۔۔پھر جب انشاک میں سمجھتا ہوں مرزا جیا صاحب نے عمل صالح کی حقیقت میں بھی کوئی ترمیم نہیں کی ہنگا مشرقی صاحب نے اس پر بھی ہاتھ صاف کیا ہے۔ان کے نزدیک عمل صالح اس نوعیت کے عمل کا نام ہے جو جنگل میں بھیڑ یا بکری کے ساتھ کیا کرتا ہے۔اور جو انسانوں میں چنگیز اور ہلاکو نے سکند را اور نپولین نے کیچز اور خوش نے کیا۔مشرقی صاحب کی اصطلاح میں عمل صالح ہے ہوائی جہاز یم اور گیس تیار کرتا غیر صالح یعنی ایسے ذرائع نہ رکھتے یا کم رکھنے والی ہر قوم پر چڑھ دوڑنا اور اسے مغلوب کر کے اس کے گھر بار اور اس کی دولت و ثروت پہ قابض ہونا اس کا نام عملی صالح ہے۔اور اس عمل کے نتیجہ میں جو مقبوضات ہاتھ آئیں وہ دور داشت ارضی کی تعریفیت میں آتے ہیں۔جس کا وعدہ صالحین سے کیا گیا ہے۔۔۔۔ہمیں ایسے لوگوں کو کافر کی سجائے منافق کہنا زیادہ صحیح سمجھتا ہوں اور میرے نزدیک یہ کھلے دشمنان اسلام سے زیادہ خطرناک ہیں کفار اور کھلے ہوئے دشمنوں کو ہر شخص پہچانتا ہے۔اور ان کا مقابلہ کہ سکتا ہے۔مگر یہ منافقین اندر سے حملہ کرتے ہیں۔قرآن کا نام لیکو اس کی تعلیم کو بدلتے ہیں۔آیات قرآنی کی تما دمت کر کے ان کے معنوں کو مسخ کرتے ہیں " (الفرقان بریلی بابت صفر و ربیع الاول ۱۳۵۴ ملتاه)