کالعدم جماعت اسلامی کا ماضی اور حال — Page 29
٢٩ قائد اعظم کی اس آوازہ پر ہندوستان کے ایک سرے سے لیکر دوسرے مرے تک مسلمانوں میں ایک برقی لہر دوڑ گئی۔اور مسلمانان ہند پاکستان کے حصول کے لئے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے۔مگر سید ابوانی علی صاحب دودی وں کی مخالفت میں پورے زور سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سب سے قبل 1 ستمبر کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے اسٹریچی ہال میں ایک مقالہ پڑھا جس میں عامتہ المسلمین اور قائد اعظم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں یہ چھا جارہا ہے کہ مسلمانوں کی تنظیم تمام دردوں کی دوا ہے اسلامی حکومت یا آزاد ہندوستان میں آزاد اسلام کے مقصد تک کی سبیل یہ بھی جار ہی ہے کہ مسلمان قوم مین افراد سے مرکب ہے وہ اسب ایک مرکز پر جمع ہوں۔متحد ہوں اور ایک مرکزی قیادت کی اطاعت میں کام کریں۔لیکن در اصل یہ ایک قوم پرستانہ کام ہے۔اس کے نتیجہ میں ایک قومی حکومت بھی میسر آسکتی ہے اور بدرجہ اقل وطنی حکومت میں اچھا خاصہ حصہ بھی مل سکتا ہے لیکن اسلامی انقلاب اور اسلامی حکومت کے مقصد تک پہنچنے کے لئے یہ پہلا قدم بھی نہیں بلکہ وہ الٹا قدم ہے یہاں میں قوم کا نام سلمان ہے وہ ہر قسم رطب و یا بس لوگوں سے نے یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کے ریزولیوشن پاس ہونے سے قبیل آپ اس نظریہ کی تائید میں تھے اور آپ کو اختلاف صرف مسلمانوں کی قیادت عظمی سے تھا مگر جب مسلمان قائد اعظم کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے تو آپ نے براہ راست نظریہ پاکستان کے خلاف محاذ قائم کا بیا د ملاحظہ جو سیاسی کشمکش حصہ دوم و حصہ سوم )