اچھی کہانیاں — Page 24
جاؤ میں بھی جا رہا ہوں" غزالی بیٹے ! اس کے کانوں میں امی کی آوازنہ آئی۔جی امی جان تمہارا دوست ہما یوں آیا ہے انھوں نے کہا۔اس وقت وہ پینٹنگ میں مصروف تھا۔اس نے برش ہاتھ سے رکھا اور باہر نکل کر دیکھا۔اس کا دوست ہمایوں کھڑا تھا۔آجاؤ دوست اس نے اسے اپنے کمرے میں ہی بلا لیا۔آہا ! مصوری ہو رہی ہے ہمایوں کی نظر جیسے ہی اس کی بنائی ہوئی تصویر پر پڑی " بس مصوری کیا میں ذرا دیکھ رہا تھا کہ مجھے کچھ بنانا بھی آتا ہے کہ خالی لکیریں ہی کھینچتا ہوں۔خیر تم سناؤ کیسے آٹا ہوا - غزالی نے پوچھا۔" میری سالگرہ ہے کچھ دنوں بعد اس کا کارڈ دینے آیا تھا۔خود اس لئے آیا ہوں کہ گذشتہ سال بھی تم نہیں آئے تھے لیکن اب ضرور آنا۔موسیقی کا پروگرام بھی ہے۔کرن پلیس میں تقریب ہوگی۔ضرور آنا سب دوست آرہے ہیں خوب ہلا گلا رہے گا۔اس نے کارڈ غزالی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔شکر یہ دوست لیکن افسوس یں نہ آسکوں گا۔غزالی نے کہا۔مگر کیوں ؟ ہمایوں فوراً بول پڑا۔کیا کوئی ضروری کام ہے اُس دن ؟ " نہیں ایسی کوئی بات نہیں دراصل بات ہے کہ ہم احمدی ایسے سالگرہ نہیں مناتے۔ہمارے پیارے امام نے ایسی عضول رسم اور اس پر اُٹھنے والے اخراجات کی فضول خرچی سے منع فرمایا ہے۔دراصل یہ رسم انگریزوں کی جاری کردہ ہے۔امی جان