کافر کون؟ — Page 8
00 8 ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں، خاموش بھی طوفان ہوتے ہیں خون جو ہے مظلوموں کا، ضائع نہ ہو جائے گا لیکن کتنے وہ مبارک قطرے ہیں جو صرف بہاراں ہوتے ہیں جو حق کی خاطر جیتے ہیں مرنے سے کہیں ڈرتے ہیں جگر جب وقت شہادت آتا ہے دل سینوں میں رقصاں ہوتے ہیں ظلم کی اس اندھی دوپہر کے خلاف مجھے کچھ لوگ سراپا احتجاج بھی نظر آئے چنانچہ ایک دل کی آواز دی تھی: اس مرحلہ پر اینٹی احمد یہ آرڈینینس کو زیر بحث لانا یا اس پر تبصرہ کرنا میرے موضوع سے خارج ہے۔ویسے بھی اس نوع کے جملہ آرڈیننسوں پر صیح تبصرہ تاریخ ہی کرے گی۔اسلام کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ الزام تو لگتا رہا ہے کہ مسلمانوں نے کافروں کو ز بر دتی کلمہ پڑھوایا البتہ کلمہ پڑھنے والوں کو بنوک شمشیر اس سے باز رکھنے کی کوئی مثال پہلے موجود نہیں تھی۔کلمہ پڑھنے کا یہی مطلب ہے نا کہ اس کا فر“ نے اقرار کیا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں او محمد اللہ کے رسول ہیں۔جناب اکبر الہ آبادی کو شکایت تھی کہ: رقیبوں نے رپٹ لکھوائی ہے جا جا کے تھانے میں کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں اُس زمانے میں شاید یہ شاعرانہ مبالغہ آرائی تھی۔کا فرانگریز حکومت میں خدا کا نام لینے پر کسی نے کوئی پابندی عائد نہیں کی تھی۔کوئی رپٹ نہیں لکھوائی تھی یہ سعادت اسلامی حکومت کو نصیب ہوئی ہے کہ غیر مسلموں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی معبودیت کے اقرار کی اجازت نہیں۔وہ مطمئن کہ سب کی زباں کاٹ دی گئی ایسی خموشیوں دوکھانیاں دوتصویریںاوردوانجام حضرت فرید الدین گنج شکر ” کا قول ہے: مگر ڈر لگے ہے (مذہب کا سرطان صفحه 30 تا 33 ) انسان کی تکمیل تین چیزوں سے ہوتی ہے۔خوف ، امید اور محبت۔خوف خدا گناہ سے بچاتا ہے۔امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے اور محبت میں محبوب کی رضا کود یکھنا پڑتا ہے۔انسان لاکھ خطا کا رسہی لیکن فطرت کی آواز کسی بھی سانحہ پر چر کہ لگانے اور سائرن بجانے سے نہیں چوکتی۔