کافر کون؟ — Page 7
7 جائے گا۔اس کے ساتھ ہی آپ نے 77 تنولی ہاؤس جس میں ملزمان آخری دفعہ عبادت کے جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے پائے گئے تھے کو سیل کر دینے کے ارشادات فرما دیئے۔اگلے چند گھنٹوں میں 77 تنولی ہاؤس کے تمام تالوں پر لاکھ سے لگی سیلیں اور دیوار پر سیل توڑنے کی سزا کے اشتہارات چسپاں نظر آرہے تھے۔قانون اس قدر سرعت سے حرکت میں تھا کہ ابھی 24 گھنٹے بھی مکمل نہ ہونے پائے تھے کہ تمام ملزمان حوالات کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکے تھے۔اورپھر اُس رات میں نے کفر احمدیت پر بہت غورکیا مبشر صاحب ! جرم، فرد جرم، مدعیان، قانون ، عدالت ، حوالات اور زنداں کی روشوں کی داستاں سناتے رہے اور میں حیرت کے سمندر میں ڈوبا اس کہانی کی ڈور کو ماضی کے دور کے کسی گوشے سے توڑنے اور جوڑنے میں مصروف رہا۔اس وقت ان کا چہرہ ان اشعار کی سرا پا تفسیر بنا نظر آ رہا تھا۔اب لفظ بیاں سب ختم ہوئے اب دیدہ و دل کا کام نہیں عشق خود پیغام اپنا اب عشق کا کچھ پیغام نہیں ہے زاہد ترے ان سجدوں کے عوض سب کچھ ہو مبارک تجھ کو مگر۔وہ سجدہ یہاں ہے کفر جبیں جو سجدہ کہ خود انعام نہیں زندان کے یہ مسافر لوہے کی ہتھکڑیاں پہنے نماز پڑھنے ، آذان دینے اور کلمہ کا بیج لگانے کا جرم سینے پر سجائے کس شان سے موت کے اندھیروں کی طرف محوسفر تھے اور مجھے ان کے جرم کا سنہرا پن آسمان کی وسعتوں پر پھیلا نظر آنے لگا۔صحن ،درویش، یہ لالہ و گل، ہونے دو جو ویراں ہوتے ہیں تخریب جنوں کے پردے میں تعمیر کے ساماں ہوتے ہیں منڈلائے ہوئے جب ہر جانب طوفاں ہی طوفاں ہوتے ہیں دیوانے کچھ آگے بڑھتے ہیں اور دست و گریباں ہوتے ہیں تو خوش ہے کہ تجھ کو حاصل ہیں میں خوش کہ میرے حصے میں نہیں وہ کام جو آساں ہوتے ہیں، وہ جلوے جو ارزاں ہوتے ہیں آسودہ ساحل تو مگر شاید تجھے معلوم نہیں ہے