کافر کون؟ — Page 495
495 دیا کہ تم کو چاہیے کہ قادیان سے ربوہ تک ہر درخت سے ایک ایک احمدی کو پھانسی پر لٹکا دو۔استہزائی مجاسے ٹھرک تک (صفحہ 58-59 مصنف تنویر احمد میر مرتضیٰ علی شاہ الحسیب پبلشر ) 53ء کے حالات کی مصنف ” پاکستان کے مذہبی اچھوت نے تصویر نگاری میں بڑی محتاط روی سے کام لیا ہے جبکہ اصل تصویر کیا تھی کن حالات اور کسی فلسفہ اخلاق کے ساتھ احمدیت کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کا مصالحہ تیار ہورہا تھا۔جماعت اسلامی کے ترجمان ” جہاں نو“ کے ایڈیٹر کی زبانی ملاخطہ کیجیے۔آپ نے احمدیت کے خلاف ہونے والے جلسوں کی رپورٹنگ زیر عنوان ” مجا“ یوں کی ہے۔کراچی میں ختم نبوت کانفرنس دھوم دھام سے ہوئی شاہ صاحب کا جلسہ بجلی کے چراغوں سے پوری طرح روشن تھا۔قدم قدم پر لکڑی کے کھمبوں پر بجلی کی ٹیوبوں سے ایک جنگل بسا رکھا تھا۔دو دن کے جلسوں میں (رات) کے نو بجے سے صبح کے تین چار بجے تک تقریریں ہوتی رہیں۔حجاموں قلیوں اور ہاکروں کی ایک کثیر تعداد سینما کی بجائے وہاں جاتی رہی اور یہی سوچ کر جاتی رہی کہ سینما سے زیادہ لطف ان جلسوں میں ہے۔لطیفوں قصوں کہانیوں اور شعر خوانیوں اور چٹکلوں سے معمور طول طویل تقریریں ہوئی طویل طویل اونچے سروں میں نظمیں پڑھی گئیں اور نعتیں سنائی گئی۔کلو حجام نے کہا سینما میں کیا مجا آئے گا جو ان جلسوں میں آئے گا جو ان جلسوں میں آیا میں تو برابر جاتا رہا۔دوکان بند کر کے رات کے گیارہ بجے سے صبح 4 بجے تک آج دن بھر سوتا رہا ہوں۔ابھی ابھی دکان پر آیا ہوں اس سے پوچھا تم کیا سمجھے۔کہنے لگا سمجھنا کیا ہے بس مجا آ گیا! چنانچہ یہی مجا تھا جو اس کا نفرنس سے لوگوں نے حاصل کیا۔ہیں؟ جہان نو کراچی 18 مئی 1951 ء ) وقت کی دھول میں 40 سال چھپ جانے کے بعد آج ان جا پر مشتمل کا نفرنسوں کا کیا حال ہے؟ علماء کرام اپنے سامعین کو احمدیت کے مقابل پر کس حد تک بنیان مرصوص بناچکے ہیں؟ حاضری کیا ہے؟ اور حاضرین کیا جماعت احمدیہ کے شدید مخالف مولا نازاہد الراشدی کی زبانی اس ٹھر کی کہانی کا انجام دیکھتے ہیں۔آپ نے روز نامہ اوصاف 19 اگست 99ء کی اشاعت میں زیر عنوان برطانیہ کی ختم نبوت کانفرنسیں ایک تفصیلی مضمون لکھا۔کانفرنس کے انعقاد کی تاریخیں اور جگہ حدود اربعہ بیان کرنے کے بعد مقررین حضرات اور سامعین حضرات کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی۔