کافر کون؟ — Page 496
496 ان کا نفرنسوں میں روئے سخن زیادہ تر قادیانیوں کی طرف ہوتا ہے۔چونکہ برصغیر پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کا زیادہ تر سابقہ قادیانیوں سے پڑتا ہے اور اکثر و بیشتر علماء بھی انہی ممالک سے آتے ہیں پھر انہیں دنوں قادیانیوں کا سالانہ عالمی اجتماع بھی لندن میں ہوتا ہے اس لیے قادیانیت ہی ان کا نفرنسوں کے مقررین کی گفتگو کا مرکزی عنوان ہوتی ہے اور علماء کرام روایتی جوش و خروش کے ساتھ قادیانیوں کے خلاف غیظ وغضب کا اظہار کر کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے اگلے سال تک کے لیے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا فریضہ ادا کر دیا ہے ان ختم نبوت کانفرنسوں میں ہونے والی گفتگو کا مواد اور انداز بھی وہی روایتی یعنی موچی دروازے اور لیاقت باغ والا ہوتا ہے۔جس سے پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش سے آکر آباد ہونے والے پرانے حضرات کا ٹھرک تو پورا ہو جاتا ہے۔لیکن یہاں پیدا ہونے والے اور پروان چڑھنے والے نو جوانوں کے پلے کچھ نہیں پڑتا اس لیے ان اجتماعات میں نوجوانوں کی شرکت کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔آگے چل کر تاسف سے یہ اعتراف بھی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں: یہ المیہ کم وبیش ہر کانفرنس میں شریک ہونے والے نوجوانوں کا ہے اور اب تو ان کا نفرنسوں کے منتظمین کے اجلاسوں میں دبے لفظوں یہ بات زیر بحث آنے لگی ہے کہ ان کا نفرنسوں کے آخر فائدہ کیا ہے؟“۔مجا حاصل کرنے والی جس بھیڑ کے ساتھ احمدیت کو فتح کرنے نکلے تھے اب وہ ٹھرک کی وادی میں کس حال میں ہیں۔علماء ان کو کہاں سے کہاں لے آئے ہیں۔مولانا راشدی نے اس کی تصویر کشی کر کے گویا قرار واقعی دکانداروں کی نشاندہی کر دی ہے۔آپ فرماتے ہیں: بھی گذشتہ روز کی بات ہے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب عبدالمقیت ، مولا نا خدا الرحمن درخواستی اور راقم الحروف کولندن لانے کے لیے گاڑی لے کر وہاں پہنچے وہ علماء سے عقیدت رکھتے ہیں اور ان کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں مگر ان کی معلومات کا حال یہ تھا کہ مجھ سے پوچھنے لگے مولوی صاحب ! احمدی فرقہ کا بانی کون ہے؟ میں نے بتایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے اس نئے مذہب کی بنیاد رکھی تھی پھر سوال کیا کہ وہ کون سی صدی میں گزرا ہے؟ اس سے اندازہ کر لیں کہ علماء سے تعلق رکھنے والے اور دینی ذوق رکھنے والے حضرات کی معلومات کا حال یہ ہے کہ جو لوگ مسجد اور مولوی کے قریب پھٹکنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کی واقفیت کا عالم کیا ہو گا ؟“ ہم نے زندگی ضائع کردی۔۔۔مولوی انورشاہ کشمیری کا مرنے سے قبل اعتراف (روز نامہ اوصاف 19 اگست 99