کافر کون؟ — Page 487
487 ان پر یہ پابندی بھی عائد ہے کہ وہ مسلمانوں کے نام اور ان کی اصلاحات کو استعمال نہیں کر سکتے انہیں ان ممالک میں احمدی مسلم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہ لوگ انتہائی منظم طریقے سے احمدیت کی تبلیغ و تلقین میں مصروف عمل ہیں اور اصل مسلمانوں کا تشخص اختیار کر چکے ہیں۔اس وقت کینڈا، یورپ اور افریقہ کے بیشتر علاقوں میں احمدی مشنری پورے نظم وضبط اور مکمل یکسوئی سے احمدیت کی تبلیغ و تلقین میں مصروف ہیں ان کی سینکڑوں عبادت گاہیں، ہزاروں تبلیغی مراکز ، لاکھوں مبلغین بے تحاشا لٹریچر جدید سہولتوں سے مزین لائبریریاں، دار الحمد، اجتماعات اور مجالس کے ذریعے احمدیت کی تبلیغ واشاعت کا کام جاری ہے جس سے متاثر ہو کر سینکڑوں غیر مسلم احمدیت کے جال میں پھنس کر بزعم خود مسلمان ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب مسلمان باہم دست وگر بیاں ہیں فقہی اور مسلکی اختلافات کے باعث مقد مے بازیاں ہورہی ہیں مسجد کی تالا بندی، ایک دوسرے کے خلاف عدالتی چارہ جوئی اور ان کے عوض جگ ہنسائی۔المیہ یہ ہے کہ مسلمان جن کی کثیر تعداد ان علاقوں میں رہائش پذیر ہے اور علماء کرام وہاں بھی ایک دوسرے کے خلاف مذہبی جنون کے تابع محاذ آراء ہیں جبکہ غیر مسلم احمدی اپنے نظریات کی تبلیغ واشاعت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ان علاقوں میں جو کچھ میں نے دیکھا سچ یہ ہے کہ بیان کرنے کی ہمت ہے نہ لفظ ساتھ دیتے ہیں۔مگر ناطقہ سر بہ گر بیاں ہے اسے کیا کہئے اور حیران ہوں روؤں دل کو کہ پیٹوں جگر کو میں کہ مسلمان تو اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت سے اس قدر مغلوب ہیں کہ انہیں یہ بھی دکھائی نہیں دیتا کہ جنہیں ہم غیر مسلم کہتے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے نام پر کیا کر رہے ہیں؟ اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ ان علاقوں میں احمدیوں کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے مجھ جیسا دنیادار آدمی یقینا یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی یہ لوگ جھوٹے ہیں؟ کیا انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا عمل درست تھا؟ کیا جن نظریات کو لیکر یہ طبقہ برطانیہ جرمنی افریقی ممالک اور کینڈا میں مصروف ہے اب یا کبھی بعد میں ان کولوگوں کے اذہان سے مٹا ناممکن ہو سکے گا۔اگست 1992ء اے لوگو! قادیانیوں کے آگے بندھ باندھور نہ تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں ہفت روزہ اہل حدیث لکھتا ہے: دینی جماعتوں کیلئے لمحہ فکریہ! " 25 اگست 1992ء کو روز نامہ جنگ لاہور کے صفحہ آخر پر قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد کی خبر نے چونکا دیا۔