کافر کون؟ — Page 418
418 اقلیتوں کے ساتھ رواداری کے طور پر کیا گیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندو اور مسیحی دونوں بڑی اقلیتوں کے سنجیدہ مذہبی رہنما یہ بیان کئی بار دے چکے ہیں کہ ان کے مذاہب میں بھی شراب جائز نہیں۔اس لئے اس پر مکمل پابندی لگائی جائے۔چیئر مین آل پاکستان ہند و پنجایت شری مہنت لکھی چتر ویل چندن اپنے ایک بیان میں نفاذ شریعت اور شراب پر پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔( خبریں 1992 ء ) اسی طرح سنجیدہ مسیحی رہنما بھی شراب پر پابندی کے حق میں ہیں۔مگر طرفہ تماشہ یہ ہے کہ پرمٹوں کی آڑ میں چھوٹے بڑے ہوٹلوں میں تو یہ کاروبار جاری ہی ہے لیکن سندھ میں شراب کی عام دکانیں بھی کھو لنے اجازت دی گئی ہے۔صرف پنجاب بھر میں 20 تا 25000 کے پرمٹ ہیں۔ایک پرمٹ دو سے چھ بوتلوں کا ماہوار کوٹہ ہوتا ہے۔ان میں سے 30 فیصد کے قریب جعلی پرمٹ ہوتے ہیں جو زیادہ تر ایکسائز کے انسپکٹروں کے پاس ہوتے ہیں۔شراب کی سپلائی کے سب سے بڑے مرکز لاہور کے فائیو سٹار ہوٹل ہیں جہاں مسیحیوں کے دو گروپ خاص طور پر بڑے متحرک ہیں اور خوب دولت بنا رہے ہیں۔آواری ہوٹل میں حفیظ سراج عرف فیجا اور فلیٹیز ہوٹل میں ضیاء کھوکھر عرف جو جا ہوٹلوں کے مالکوں ،سرکاری انتظامیہ اور ایکسائز انسپکٹروں کے تعاون سے مسیحیوں کے نام پر یہ مکروہ اور کالا دھندا جاری رکھے ہوئے ہیں۔پہلے یہ دونوں سرغنے اکھٹے تھے لیکن آواری میں رقم کی بندر بانٹ پر 13 اگست 95 ء کو یہ دونوں شراب فروش پارٹیاں لڑ پڑیں۔ایک دوسرے پر گولیاں چلائیں۔زخمی ہوئے اور مقدمات بھی درج ہوئے جس کے بعد ان کے راستے الگ الگ ہو گئے۔یہی حال فلیٹیز ہوٹل میں شراب فروشی کا کالا دھندا کرنے والے ضیاء کھوکھر عرف جو جا کا ہے۔یہ انکشاف بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ان فائیوسٹار ہوٹلوں میں غیر ملکی مہمانوں کے بھی شراب پر مٹ بنتے ہیں۔جو دس دن یا ایک ماہ سے پہلے ہی اپنے وطن واپس لوٹ جاتے ہیں۔اور وہ پرمٹ بالآخر محکمہ ایکسائز ، ہوٹلوں کے متعلقہ اہلکاروں ، حفیظ سراج اور ضیاء کھوکھر کے کام آتے ہیں۔آواری ہوٹل کے مالک بہرام جی آواری نے ماضی کی نامور فلمسٹار نیلو کے خاوند ریاض شاہد کے چھوٹے بھائی افضال احمد عرف بھولا کو ہوٹل کی تمام شراب کا ذمہ دار بنا رکھا ہے۔جو محکمہ ایکسائز کے متعلقہ شراب کے شعبہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کے عہدے سے ریٹائر ہوا۔اور پیشن حاصل کی۔بہرام جی آواری نے افضال احمد عرف بھولا کو تیس ہزار روپے ماہوار تنخواہ کے علاوہ گاڑی اور دیگر مراعات بھی دی رکھی ہیں۔افضال احمد نے لارنس روڈ پر واقع سہگلوں کے بنگلہ کے عقب میں عالیشان بنگلہ بنایا جس میں حفیظ سراج کی مالی امداد کا بڑا حصہ ہے۔شراب کی نام نہا دایسوسی ایشن کے حفیظ سراج وغیرہ نے محکمہ ایکسائز لاہور کے دفتر پر 25 دسمبر 93ء کو حملہ کیا