کافر کون؟ — Page 412
412 مطابق یہ مقدمہ مولوی اللہ وسایا امیر مجلس ختم نبوت ڈیرہ غازی خان کی درخواست پر درج کیا گیا۔اس نے اپنی درخواست میں لکھا کہ قادیانیوں کو کا فرقرار دیا جا چکا ہے مگر پھر بھی انہوں نے قرآن مجید کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کر کے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔“ مقدمہ کے اندراج کے بعد مورخہ 12 جنوری 1992 ء کو رفیق احمد صاحب نعیم کو گرفتار کر لیا گیا اور مورخہ 30 جنوری کو عدالت نے دونوں کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اس طرح مکرم خان محمد صاحب بھی گرفتار ہو گئے۔اسی دوران پولیس نے 295B اور 295C تعزیرات پاکستان کا اضافہ کر دیا۔یادر ہے کہ 295A کے تحت دس سال تک قید ہو سکتی ہے جبکہ 2958 کے تحت سزا عمر قید اور 295C کے تحت سزا موت مقرر ہے۔روز نامہ جنگ لاہور کے 16 دسمبر 1991ء کے شمارہ کی خبر کے مطابق مولوی اللہ یا را رشد مجلس احرار اسلام اور سپاہ صحابہ سرگودھا کے صدر مولوی احمد علی نے اس خطر ناک فعل پر سزائے موت کا مطالبہ کیا ہے۔اور وجہ یہ بتائی کہ قادیانی چونکہ نجس ہیں اس لیے وہ کلام پاک کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ادھر صرف کراچی شہر میں 70 شراب خانے مزید کھولنے کی اجازت روز نامہ خبریں کراچی لکھتا ہے کہ قومی اخبارات میں گذشتہ دنوں یہ افسوسناک خبر شائع ہوئی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے صرف ایک شہر کراچی میں بیک جنبش قلم شراب کی 70 دکانوں کو اجازت نامے عطا کرنے کے علاوہ ایک شراب کی فیکٹری کا لائسنس بھی منظور فرمایا ہے۔ابھی اس حکم کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی اور اگلے روز کے اخبارات میں مختلف رہنماؤں کا رد عمل شائع ہوا۔اسی روز وزیر اعظم صاحبہ کا یہ فرمان بھی نظر سے گزرا کہ فائیوسٹار اور فور سٹار ہوٹلوں کو شراب کے لائسنس جاری کئے گئے ہیں۔کراچی میں دیئے گئے شراب خانوں کے لائسنس کے جواز میں اس دلیل کا سہارا لیا گیا تھا کہ عیسائیوں اور غیر مسلموں کے روپ میں شراب کے پرمٹوں سے دراصل مسلمان فائدہ اٹھاتے تھے۔یعنی بالفاظ دیگر جو لوگ چوری چھپے یا غیر مسلم بن کر غیر قانونی طور پر شراب کے پرمٹوں پر دختر انگور سے شوق فرماتے تھے ، اب انہیں قانون کے دائرے میں حصول شراب کی کھلی چھٹی دیدی گئی ہے۔جہاں تک شراب نوشی اور اس کی خرید وفروخت کا تعلق ہے۔اس معاملے میں دورا ئیں نہیں ہوسکتیں۔اللہ تعالیٰ