کافر کون؟

by Other Authors

Page 367 of 524

کافر کون؟ — Page 367

367 تفہیم القرآن زیر آیت 2 سوره عبس ) اسی آیت کی تفسیر میں زبدۃ المفسرین علامہ محمود الحسن و علامہ شبیر احمد عثمانی رقم طراز ہیں: د یعنی پیغمبر نے ایک اندھے کے آنے پر چیں بجیں ہو کر منہ پھیر لیا حالانکہ اس کو اندھے کی معذوری۔منکر حالی اور طالب صادق کا لحاظ زیادہ کرنا چاہیے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یہ کلام گو یا اور وں کے سامنے گلہ ہے رسول کا “۔( عکسی قرآن مجید مترجم وشی زیر آیت 2 سورة عبس ) آپ کی زبان پر شیطان نے تسلط پالیا۔العیاذ باللہ آپ کے بارے میں تفسیر جلالین صفحہ 282 میں لکھا ہے کہ آنحضرت سالی تم پر شیطانی وحی ہوئی آیت افرء يتم اللت والعزى ومنوة الثالثة الاخرى 0 سورہ نجم 20 - 21 پر پہنچے تو شیطان نے آپ کی زبان پر تسلط پا لیا اور کہلوایا تلك الغرانيق العلى وان شفاعتهن لشر تجی یعنی یہ بہت اونچا مقام رکھتے ہیں اور ان کی شفاعت قبول کئے جانے کے لائق ہے۔(العیاذ بالله ثم العیاذ باللہ) آپ کی کوتاہیاں اور لغزشیں ہم نے بخش دیں۔العیاذ باللہ مودودی صاحب ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر فت 2 فرماتے ہیں: چونکہ روئے سخن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ہر انگلی اور پچھلی کو تا ہی کو معاف فرما دیا ہے اس لیے عام الفاظ سے یہ مضمون بھی نکل آیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اُس کے رسول پاک کی تمام لغرشیں بخش دی گئیں۔آپ نبوت سے قبل 40 سال گمراہ رہے۔نعوذ باللہ من ذلک (تفہیم القرآن ) ووجد لـ ضالا فهدی (سورہ الضحی آیت 18 کے ترجمہ وتفسیر میں مفسرین کی گل آرایاں موجب حیرت ہی نہیں موجب دکھ بھی ہیں لکھتے ہیں کہ : آپ نبوت سے قبل چالیس سال تک ” گمراہ تھے کسی نے کہا راہ گم تھے اور کسی نے کہا آپ "جاہل" تھے۔نعوذ باللہ من ذلک مودودی صاحب اس آیت کی تفسیر یوں فرماتے ہیں: ترجمہ تمہیں ناواقف راہ پایا اور ہدایت بخشی ( تفسیر جامع البیان تفسیر قادری زیر آیت سورہ الضحی آیت 8-9)