کافر کون؟

by Other Authors

Page 355 of 524

کافر کون؟ — Page 355

355 اللہ بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے۔لا وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا ہے اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔آج ہم انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اس دن کی ملاقات کو بھولے ہے۔حمید اللہ اس سے ہر گز نہیں شرماتا۔حالانکہ ابھی تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں۔یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔اور مکر کیا ان کا فروں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ کا داوسب سے بہتر ہے۔میرے مترجمین کرام کے یہ تراجم کہ نعوذ باللہ خدا مذاق کرتا ہے۔لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔چال چلتا ہے۔داؤ کرتا ہے۔دھوکہ دیتا ہے۔بھول جاتا ہے۔مکر کرتا ہے۔اور شرم نہیں کرتا۔اور خدا کو ابھی معلوم ہی نہیں یہ سب تراجم ہی ہیں جنہوں نے مخالف اسلام ہندووں اور عیسائیوں کو اسلامی خدا پر حملہ کا موقعہ فراہم کیا ہوا ہے۔ملائکہ اللہ کے بارے میں قرآنی آیات کا حشر ایمانیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات پر ایمان لانے کے بعد ملائکۃ اللہ پر ایمان لانا بھی ایک ضروری اور بنیادی عقیدہ ہے فرشتوں کے بارے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لا يعصون الله ما امرهم ويَفْعَلُون مايؤمرون ( تحریم آیت 7 ) یعنی فرشتے اللہ تعالیٰ کی وہ پاک مخلوق ہیں جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور ان کی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی نہیں کرتے۔مگر میرے علماء دین اور علماء دہر کے فرشتوں کے بارے میں عجیب وغریب عقائد میں مثلاً فرشتے بھی نافرمانی کر لیتے ہیں۔فرشتے بھی نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں اور ابلیس تو پہلے فرشتہ تھا بلکہ فرشتوں کا سردار تھا۔( تفسیر مراح لبید جز اول صفحه 463 از الشیخ محمد نوری سید العلماء حجاز ناشر دار الكتب العربيه الكبرى) جبکہ قصص الانبیاء میں لکھا ہے کہ ابلیس نے تو ساتوں آسمانوں پر ایک ہزار سال تک عبادت کی۔پھر چھ لاکھ برس کھڑا ہو کر گریہ وزاری کرتا رہا۔بعد ازاں بہشت میں ایک منبر نور کا رکھوا کر درس و تدریس اور وعظ ونصیحت کرتا رہا۔اور جبرائیل و میکائیل اسرافیل و عزرائیل اور سب فرشتے اس منبر کے نیچے بیٹھ کر وعظ سنا کرتے تھے۔ابلیس کا یہ سلسلہ تدریس وتعلیم بہشت میں ہزار برس تک جاری رہا۔اورلکھا ہے کہ ایک دن اُس جہان کا اس جہان کے ہزار