کافر کون؟

by Other Authors

Page 340 of 524

کافر کون؟ — Page 340

340 سٹیٹ بنک کی چابیاں ہی مولوی صاحب کے سپرد کر دیں یقیناً اسے بھی ہم ایک سیاسی حاسدانہ بیان سمجھ لیتے ہیں تو بھی دیو بند کے عظیم فدائی اور کالم نگار جناب ہارون الرشید کے یہ الفاظ دل دہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔آپ نے شریا سے زمین پر آسمان نے تم کو دے مارا“ کے عنوان سے پاکستان میں موجود دیو بند کے وارثین ( مولانا فضل الرحمن ) کا نوحہ لکھتے ہوئے فرمایا: اب ان ( مولوی فضل الرحمن صاحب) کی شہرت ایک بد عنوان آدمی کی ہے کہ جب لوگ انہیں مولانا ڈیزل اور مولانا سپرے( کھاد ) کہتے ہیں تو دیوبند کی عظیم الشان روایتیں اس کے دل میں جگمگاتی ہیں اور حیرت سے سوچتا ہوں کہ خدا پرستوں کے قبیلے نے حالات سے اس درجہ مفاہمت کر لی ہے اور پھر مزید افسوس سے فرماتے ہیں۔نظریاتی تحریکیں جذبات کی کسی رفعت اور ایثار کے کسی جذبہ سے پھوٹتی ہیں اور رفتہ رفتہ کس طرح نشیب میں اتر جاتی ہیں۔کل راشی مولوی آج قائد اور راہبر ( روزنامہ خبریں 18 جولائی 96ء) مجاہد ملت مولا نا عبدالستار نیازی صاحب ، مولانا فضل کریم صاحب وغیرہ سے تو الگ ہو گئے ہیں اب آپ نے اپنا اگلا اتحاد مولانا شاہ احمد نورانی صاحب سے کر لیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان ہو گیا ہے ہمیں تو اس اتحاد پر کوئی اعتراض نہیں لیکن انہیں مولانا عبدالستار نیازی صاحب کو آج سے چند سال پہلے مولانا شاہ احمد نورانی صاحب سے شدید مالی کرپشن کا اعتراض تھا جس کی بناء پر جمعیۃ العلماء پاکستان دوگروپوں میں تقسیم ہوگئی۔ایک گروپ کی قیادت نورانی صاحب کرنے لگے اور دوسرے کی قیادت نیازی صاحب۔الیکشن میں بھی یہ گروپ اسی حیثیت سے حصہ لیتے ہیں وہ کیا سانحہ تھا؟ وہ کیا مصیبت تھی جس نے جمعیۃ العلماء پاکستان کو توڑ کر دوحصوں میں کر دیا اس کی تفصیل بھی جاننے کے لائق ہے۔ہوا یوں کہ بینظیر صاحبہ کا دور اول تھا۔ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے والی تھی۔دونوں پارٹیوں کو مطلوبہ تعداد کے لیے ووٹوں کی ضرورت تھی جس کے لیے کروڑوں روپے میں ممبران خریدے جارہے تھے ایسے میں بے نظیر صاحبہ نے نورانی صاحب کی اور نواز شریف صاحب نے نیازی صاحب کی ہمدردیاں حاصل کر لیں۔تحریک عدم اعتماد نا کام ہوگئی اس کے بعد جناب نیازی صاحب کی پریس کانفرنس نے جب اندر کے پردے اٹھائے تو یہ سانحہ ہوا کہ جمعیۃ العلماء پاکستان دوگروپوں میں بٹ گئی۔ا علماء حضرات کو رشوت بذریعہ علماء حضرات مولانا نورانی صاحب کے بارے میں مولانا عبدالستار نیازی صاحب کی وہ پریس کانفرنس بھی آپ کے