کافر کون؟ — Page 329
329 پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے علماءدین، حامیاں شرع متین، فضیلتہ الشيخ زيدة الحقين، علماءد ہر، علماء عصر ، مجد دزماں غزالی دوراں، پہاڑوں جیسی شخصیات کی آپس میں چھیڑ چھاڑ اور ذکر یار اور اس ذکر پر نور سے وجود میں آنے والے معاشرے کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد دل کی وہی حالت ہے جو اپنے زمانے میں ایسی ہی گھڑی میں فیض صاحب کی تھی۔ستم کی آگ کا ایندھن بنے دل پھر سے وادلہا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں خداوندا بنا پھرتا ہے ہر اک مدعی پیغام بر تیرا ہر اک بت کو صنم خانے میں دعوی ہے خدائی کا ہفت روزہ مہارت لاہور نے علمائے کرام کے اس رخ روشن اور قادیانیوں کے مقابل پر ان کی سیرت مبارکہ ذاتیہ کو پیش کرنے کے بعد جو مشورہ دیاوہ کتنا سچا اور ہم جیسے محققین کے دل کا آئینہ دار ہے۔اس قسم کے علماء جب قادیانیوں کے ارتداد کے لیے عام سوجھ بوجھ کے مسلمانوں کے عقائد کو محفوظ رکھنے کی اس انداز میں کوشش کریں گے تو یقینا ان کی تمام تر مساعی بے اثر ثابت ہونگی بلکہ الٹا اثر پڑے گا جسے اب ہم دیکھ رہے ہیں۔یہ حقیقت حال میرے لیے پریشانی کا موجب ہے اسی طرح بہت سے عام مسلمان جن کا مطالعہ میری طرح سطحی اور معمولی ہے جب مسلمان اور غیر مسلم قادیانیوں کے کردار عمل کا تقابل کرتے ہیں تو سچی بات ہے کہ ان کا اپنا عقیدہ ڈانواں ڈول ہو جاتا ہے علماء کرام ہی اس صورت حال کی اصلاح فرما سکتے ہیں اور ظاہر ہے کہ وہ جن لوگوں کی اصلاح وہ فرمائیں گے ان کی طرف سے یہ سوال تو علماء کرام سے کیا جائے گا پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے۔( مہارت 3 تا 10 اکتوبر 93ء و مذ ہب کا سرطان صفحہ (28)