کافر کون؟

by Other Authors

Page 314 of 524

کافر کون؟ — Page 314

314 (صفحه 297) صفحہ 300 پر درج ہے: ان گستاخ رسول دیو بندیوں کے ہزاروں مکروں میں سے ایک مکر بھی ایسا ہر گز کوئی بھی نہیں ثابت کر سکتا خو خبیث الاخبث نہ ہو۔ان گستاخوں کے مکر۔فریب۔داؤ۔دھو کہ۔دغا چال چلنے سے اس قدر محبت ہے کہ خود تو کرتے ہی ہیں اپنے رب کے لیے بھی قرآن پاک کے ترجمہ میں لکھنے پر بہت مسرور ہوتے ہیں۔” وہابی دیو بندی یہ مجدی اور مودودی۔خدا کے مصطفیٰ کے دین کے ایمان کے دشمن (صفحه 300) اسی طرح ممتاز دیوبندی اکابرین کی وفات کے متعلق ” گستاخاں رسول کی عبرتناک موت پر چند مختصر جھلکیاں نامی کتاب بریلوی مکتبہ فکر مکتبہ نوریہ رضویہ وکٹوریہ مارکیٹ سکھر نے شائع کی ہے۔آغاز منظر کشی یوں ہوا ہے۔” میرے پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے دیکھا اور سنا ہو گا کہ گستاخان رسول کی عبرتناک موت پر گستاخ رسول دیو بندی اس کی دوسری علامات مثلاً زانی لوطی۔شرابی ہونا۔تو سبب بتا دینا گوارا کر لیتے ہیں مگر بھیانک موت کا سبب۔اللہ تعالیٰ کے محبوب کی گستاخی کبھی ہر گز بیان نہیں کرتے“۔(صفحہ 34) پھر دیوبندیوں کے بارے میں ہوشیار کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: اگر حقیقت میں فاروق اعظم ظاہری حیات میں آج تشریف فرما ہوتے تو گستاخان رسول نجدی وہابی۔دیو بندی۔ندوی۔مودودی اور کراچی کا عباسی۔عثمانی۔لاہور کا اسراری خارجی۔اشرف علی تھانوی ہوتے نہ ان کی کفریہ عبارات ہوتیں اور نہ ان کے پیروکاروں کا دور دور تک نام ونشان ہوتا۔خبر دار خبر دار گستاخ رسول فرقے کسی بھی ٹولی میں خود کو شامل نہ کرنا۔ہر دم گستاخاں رسول کی مکاریوں سے بچتے رہنا۔چنانچہ رب العزت کی اس سنت مطہرہ پر آپ کا انیس عمل کرتے ہوئے چند گستاخانِ رسول کی بہت ہی مختصر عبرتناک موتوں کی طرف اشارے تحریر کرتا ہے (صفحہ 36 ) اشرف علی تھانوی کے بارے میں ہے کہ اس کے بدن میں کیڑے پڑ گئے اور تعفن کی وجہ سے عزیز واقارب تک کو جنازے سے نفرت ہوگئی۔(صفحہ 37) رشید احمد گنگوھی اندھا ہو کر فوت ہوا۔بلکہ اندھی آنکھوں میں بھی کیڑے پڑ گئے گھر والوں سے بد بو برداشت