کافر کون؟ — Page 302
302 کے سپر د کر نے مطالبہ کیا گیا تھا لندن میں کا نفرنس منعقد کر کے مطالبہ کس سے کیا گیا تھا۔یہ تو علامہ قادری صاحب بہتر جانتے ہونگے کیونکہ برصغیر میں انگریز بہادر سب طرف سے ناکام ہونے کے بعد بالاخر بریلی شریف کے مفتی اعظم مولانا احمد رضا خاں سے ہندوستان دار السلام کا فتویٰ لینے میں کامیاب ہو گیا تھا۔(بریلی کے فتوووں کا سستا ہے بھاؤ از لیاقت فاروقی روزنامه پاکستان 15اکتوبر 1997ء) 11 - مولانا ثناء اللہ امرتسری مبلغ اسلام نہیں، جھوٹا، شریر، مفسد، بے حیا محمد، زندیق ، پنجابی ڈھنگہ ، دھوکہ باز ابلہ فریب علم سے بے بہرہ بلکہ دجالوں میں ایک دجال مولانا ثناء اللہ امرتسری اہل حدیث کے ایک مشہور عالم دین ہیں جنہوں نے حضرت مرزا صاحب سے لمبی چوڑی جنگ کی اہل حدیث کا ایک طبقہ انہیں عالم دین سمجھتا ہے جبکہ اہل حدیث کا ہی دوسرا طبقہ جو بہت بڑا ہے آپ کے اخلاق فاضلہ کی کیا تصویر پیش کرتا ہے۔اس کو علیات خرافات پھکڑ بازی وغیرہ کا موجد کہ لیں۔اس کے استاد مولوی احمداللہ صاحب رئیس امرتسر یہ فرما چکے ہیں کہ ثناء اللہ کی تمام کتابیں جلا دینے کے قابل ہیں۔اندھوں میں کانا راجہ ہے جھوٹ افتراء پردازی اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔یہ ایک کشمیری بچہ پنجابی ڈھگہ شریر مزاج مفسد طبع اور تقویٰ اور ورع سے کوسوں دور۔اکثر حملہ اس کا قرآن اور حدیث اور مذہب اسلام پر ہی ہوتا ہے۔چونکہ یہ کا ذب دھوکہ باز اور ابلہ فریب ہے لہذا وہ حق پرستی کر کے جھوٹے الزامی جواب پر قناعت کرتا ہے۔علم سے بے بہرہ تمسخر و استہزاء شعر خوانی و بس عوام الناس کو دھوکہ دینے کے واسطے جاہل مجاہد۔اس کا دین بھی پیسہ ایمان بھی پیسہ جنت بھی پیسہ دوستو اس شریر مفسد سے بچو۔“ (فاروق 6/ 16-17 پر بنائے نقل مقدمہ واہل فقہ 14 جون 1907 ء بحوالہ زجاجہ صفحہ 178 ) | اسی طرح مشہور اہل حدیث عالم دین مولوی فقیر اللہ مدراسی اپنی کتاب ”اعلام خلق اللہ میں اپنے ہم مسلک بھائی ثناء اللہ کے کردار علم اور اخلاق کی تصویر یوں بناتے ہیں: غرضیکہ مولوی ثناء اللہ کا یہی حال ہے کہ اس نے نفاق ورزی کے ذریعہ سے فقط نام اہل حدیث رکھوانے سے عوام بلکہ خواص کا لعوام کا شکار کرتا جاتا ہے اور گمراہی اور فتنہ وفساد در دین رب العباد میں 72 گمراہ فرقوں اور تمام ملحدوں پر بڑھ گیا اور تحریف کتاب وسنت میں یہاں تک جرأت پیدا کیا ہے کہ اس نے بحکم تعلیم شیطانی اپنی دادی پر دادی نانی پر نانی ساس کی ماں کو اور بھانجا بھانجی بھی بھیجا ان چاروں کی نواسی پوتی کو اپنے اوپر حلال کر دیا۔آج تک کسی گمراہ سے گمراہ پیر فقیر نے اور نہ مرزا قادیانی نے اور نہ کسی دوسرے ملحد نے ملتہ وحداہ میں اس پر جرات کی بلکہ یہود و ہنود کو بھی اس میں عار وشنار ہے۔مگر اس محد جدید کشمیری دلاور خان بہادر کو اس سے ذرا بھر بھی حیاء وخوف خداو فکر روز جزاء نہیں“۔