کافر کون؟ — Page 285
تبصرہ 285 مولا نا آپ قادیانیت کو فتح کرنا چاہتے ہیں ہو سکتا ہے کہ آپ یہ خواہش تصمیم دل سے کر رہے ہوں مگر اس سچی کوشش میں جھوٹ کا سہارا کیوں؟ مشہور ڈرامہ نویس شیکسپیئر کا قول ہے۔اس شہد سے کیا فائدہ جو زہر میں ملا ہوا ہو بلکہ اس سے بہتر تو وہ زہر ہے جس میں شہد کی شیرینی ہو۔1۔پہلی بات یہ کہ ازالہ اوہام کے صفحہ 34 پر یا اس سے اگلے پچھلے صفحوں پر او پر درج حوالہ کہیں موجود نہیں۔لگتا ہے سنی سنائی باتوں سے قادیانیت فتح ہورہی ہے۔2۔دوسری بات یہ کہ جو تحریف شدہ حوالہ آپ نے درج فرمایا ہے وہ خطبہ الہامیہ سے ہے جس میں خواب اور عالم کشف کی بات ہو رہی ہے۔اصل الفاظ یہ ہیں : عالم کشف میں میرے دل میں اس بات کا یقین تھا کہ قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے۔یعنی مکہ اور مدینہ اور قادیان کا۔(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 20 حاشیہ ) آپ اصل الفاظ بھی دیکھ لیں اور پھر عالم کشف کو کاٹنے والا جھوٹ ملاحظہ کر لیں۔جھوٹ نمبر 7 تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد کا بے باک جھوٹ تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد کے دامن میں یوں تو بہت سے مثالی کارنامے موجود ہیں۔آذان پر ان کی دل آزاری ہو جاتی ہے۔شناختی کارڈ کے فارموں میں لکھنے مسلمان لفظ کی ناخوشگوار خوشبو ان کے دماغ کے پردوں پر خوفناک اثر کر دیتی ہے مگر بے ضرر ایسے ہیں کہ ایک دفعہ 80 کے قریب ختم نبوت کے پروانے کھڑے تھے وہاں تین قادیانی نوجوان آئے اور انہوں نے اشتعال انگیز خلاف اسلام نعرے بھی لگانا شروع کر دیے اور حد یہ کہ ”بہت سارے مجاہدین کو ان تینوں نے زخمی بھی کر دیا۔کمال صبر دیکھیے 80 مجاہد بالکل ساکت کھڑے رہے اور مجال ہے کسی نے اف“ بھی کی ہو وہ تو بھلا ہو پولیس کا جس نے موقعہ پر پہنچ کر ان تین منہ زور قادیانیوں کو جیل بھجوایا اور مجاہدین کی حفاظت کی۔خیر اعلیٰ ظرف لوگوں کی اعلیٰ روایات ہیں مگر دکھ یہ ہے کہ سارے پاکستان کے علماء گرمیوں میں ایبٹ آبادان مجاہدین کی ٹریننگ کے لیے کیمپ لگاتے ہیں مگر اتنے مستند علماء کے اتنے مستند خدام نے بھی قادیانیت پر حملہ کرنے کے لیے جھوٹے الزامات کا ہی سہارا لیا ہے۔تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس ایبٹ