کافر کون؟

by Other Authors

Page 252 of 524

کافر کون؟ — Page 252

252 گر ہنوں کی ممکنہ تاریخوں کی وضاحت پر مبنی کتب 17 - حج الكرامه في اثار القيامة مصنفہ نواب صدیق حسن خان صاحب محدث دہلوی مطبوعه عدد مرتبہ 1271ھ مطبع شاہجہانی بھوپال یہ کتاب فارسی زبان میں ہے اس میں علماء نجوم کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ چاند گرہن سوائے تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں اور سورج گرہن سوائے ستائیسویں اٹھائیسویں اور انتسویں تاریخوں کے کبھی نہیں لگتا۔18۔احوال الآخرت یہ کتاب منظوم پنجابی زبان میں ہے مولانا مولوی حافظ محمد بن مولوی بارک اللہ مرحوم سکنہ لکھو کے اس کتاب کے مصنف ہیں۔مطبوعہ حاجی چراغ دین سراج دین تاجران کشمیری بازار لاہور۔اس منظوم کلام میں مصنف نے دار قطنی کی حدیث کو مدنظر رکھتے ہوئے ظہور مہدی کی غیر معمولی علامت چاند گرہن اور سورج گرہن کی تاریخوں تیرھویں چن اور ستائیسویں سورج کا بھی ذکر ہے۔یادر ہے 27 تاریخ سہو کا تب یا سہومصنف ہے جس حدیث کی طرف اس شعر میں اشارہ ہے اس کی رو سے 28 کے الفاظ چاہئیں۔19۔اشارات فریدی حصہ سوم یہ کتاب مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب آف چاچڑاں شریف کے ملفوظات پر اس کتاب میں لکھا ہے کہ بے شک حدیث شریف کے معنی یہ ہیں کہ چاند گرہن ہمیشہ چاند کی 13-14 یا 15 کو ہوتا ہے سورج گرہن ہمیشہ 27-28 یا 29 کو ہوتا ہے۔1894ء میں یہ نشان پورا ہو گیا مشتمل ہے۔حضرت مرزا صاحب نے 1889ء میں دعویٰ مہدویت کیا۔لوگوں نے آپ سے کسوف خسوف کا نشان طلب کیا۔جس پر آپ نے انہیں کہا کہ اگر میں سچا ہوا تو یہ نشان ضرور پورا ہوگا چنانچہ دعوی کے 5 سال بعد 1984ء رمضان کے مہینہ میں 13 رمضان کو چاند اور 28 رمضان کو سورج گرہن ہوا۔اسی طرح 1895ء میں انہیں تاریخوں پر رمضان میں دوسری دنیا یعنی امریکہ میں یہ نشان ظاہر ہوا۔1۔سول اینڈ ملٹری گزٹ 7 اپریل 1894 ءلاہور 2 - کتاب CANONDER FINSTERNISSE مطبوعہ 1887ء ویانا، آسٹریا۔وغیرہ وغیرہ یہ نشان میری صداقت و تصدیق کے لیے ہے۔۔۔حضرت مرزا صاحب کا اعلان ” مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے میری تصدیق کے لیے آسمان پر یہ