کافر کون؟

by Other Authors

Page 187 of 524

کافر کون؟ — Page 187

187 جاؤں۔اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ دفعہ حضرت والا نمودار ہوئے اور بکسوں میں سے ایک بکس کے پاس تشریف لے جا کر فر ما یا جلدی سے اٹھاؤ“۔(اشرف السوانح از خواجه عزیز الحسن شائع کردہ خانقاہ امداد یہ تھا نہ بھون ضلع مظفر نگر جلد 3 صفحہ 71) 65۔مولانا اشرف علی تھانوی اپنے پڑدادا محمد فرید صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ ایک حادثہ میں شہید ہو گئے مگر شہادت کے بعد ایک عجیب واقعہ ہوا شب کے وقت اپنے گوشل زندہ کے تشریف لائے اور اپنے گھر والوں کو مٹھائی لا کر دی اور فرمایا اگر تم کسی پر ظاہر نہ کروگی تو اس طرح روز آیا کریں گے۔لیکن ان کے گھر کے لوگوں کو یہ اندیشہ ہوا کہ گھر والے جب بچوں کو مٹھائی کھاتے دیکھیں گے تو معلوم نہیں کیا شبہ کریں گے اس لیے ظاہر کر دیا اور آپ تشریف نہیں لائے“۔66۔مردوں کا ظاہر جسم سے گھر میں واپسی ( اشرف السوانح جلد 1 صفحہ 12 ) مولانا اسمعیل دہلوی کے قافلے میں ایک شخص شہید ہو گیا جن کا نام بیدار بخت تھا یہ مجاہد دیو بند کے رہنے والے تھے ان کی شہادت کی خبر آچکی تھی۔ان کے والد حشمت علی خاں حسب معمول دیو بند میں اپنے گھر میں ایک رات تہجد کے لیے اٹھے تو گھر کے باہر گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز آئی۔انہوں نے دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ ان کے بیٹے بیدار بخت ہیں۔بہت حیرانگی بڑھی کہ یہ تو بالا کوٹ میں شہید ہو گئے تھے یہاں کیسے آگئے۔بیدار بخت نے کہا جلدی کوئی دری وغیرہ بچھائیے حضرت مولانا اسمعیل اور سید احمد صاحب یہاں تشریف لا رہے ہیں۔حشمت خاں نے فوراً ایک بڑی چٹائی بچھا دی اتنے میں سید صاحب اور مولا نا شہید اور چند دوسرے رفقاء بھی آگئے۔حشمت خاں نے محبت پدری کی وجہ سے سوال کیا تمہارے کہاں تلوار لگی تھی ؟ بیدار بخت نے سر سے اپنا ڈھانٹا کھولا اور اپنا نصف چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر اپنے باپ کو دکھایا کہ یہاں تلوار لگی تھی۔حشمت خاں نے کہا یہ ڈھانٹنا پھر سے باندھ لو۔مجھ سے یہ نظارہ نہیں دیکھا جاتا۔تھوڑی دیر کے بعد یہ تمام حضرات واپس تشریف لے گئے۔صبح کو حشمت خاں کو شبہ ہوا کہ یہ کہیں خواب تو نہیں تھا مگر چٹائی کو جو غور سے دیکھا تو خون کے قطرے موجود تھے یہ وہ قطرے تھے جو بیدار بخت کے چہرے سے گرتے ہوئے اس کے والد نے دیکھے تھے۔( ملفوظات مولانا اشرف علی تھانوی صفحہ 409 مطبوعہ پاکستان بحوالہ ہفت روزہ چٹان 24 دسمبر 1962 ء ) 67 - مولوی حسین احمد مدنی بارش روکنے کی طاقت رکھتے تھے۔