کافر کون؟ — Page 176
176 قصہ مختصر خلاصہ کلام یہ کہ اگر احمدیت کا انکار کر دیا جائے تو فرقے 72 بنیں یا 72 سو کوئی خطرہ نہیں، وہ مزاروں پہ سجدے کریں یا احادیث کا انکار ، وہ قرآنی آیات کو منسوخ کریں یا توہین صحابہ و امہات المومنین۔ان کے پکے مسلمان ہونے کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ وہ ختم نبوت کے پاکستانی معنوں پر دستخط کرتے اور جماعت احمدیہ کو کا فر گردانتے ہیں۔ایک حسین خواب اور اس کی خوفناک تعبیر کسی بھی آسمانی مصلح کی آمد آئندہ کے لیے لعنت اور اس کا انکار رحمت اور اس نظریے نے مسلمانوں کو ایسے ہر بنیادی اختلاف سے محفوظ کر دیا جو ان کے اندر مستقل تفریق کا موجب ہوسکتا ہو۔اور اس نظریے کی بدولت ہی امت کو ایک دائی اور عالمگیر برداری بنا ممکن ہوا ہے۔یہ وہ سنہری خواب یا سنہری سمجھوتہ ہے جو ہمیں اکابر علماء نے احمدیت کو کافر بنانے کے لیے آخری ہتھیار کے طور پر عنایت فرمایا تھا۔تحقیق کے اس سفر میں جب میں نے اکابر علماء دین کے خیال میں دوسرے فرقوں کے مذعومہ عقائد یا خود ان کے اپنے اعلامیہ، ڈھیروں ڈھیر عقائد کا جائزہ لیا تو حاصل وصول الجھنیں میری انگلی مشکل بن گئیں۔مذہبی دنیا کے اس افسانوی سمجھوتے کی داستان ملاخطہ کیجئے: اگر کسی دیوبندی بھائی کے درج ذیل عقائد بھی ہیں تو بھی فکر نہیں آج سے یہ عین اسلامی عقائد قرار دئیے جاتے ہیں۔بریلوی علماء دین عرصہ دراز سے دیو بند مکتبہ فکر سے شدید ناراض تھے اور انہیں کافر، مرتد، ان کا ارتداد کفر سخت در جے پر، جوان کے ارتداد کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ، خبیث سردار فاسق ، فاجر پر خبیث اور مفسد سے بڑھ کر ہٹ دھرم۔کمینے تر کا فر، باطن میں خباثتیں، اسلام کے دشمن ، ان سے شادی زنا، نماز جنازہ پڑھنا حرام ، ان کے جنازے کو کندھا دینا بھی حرام، اسلام کے سب سے بڑے دشمن۔ان سے کھانا پینا حرام۔عبادت حرام۔جنازے کی مشایعت حرام مسلمان قبرستان میں دفن کرنا حرام دعائے مغفرت یا ایصال ثواب حرام۔ان کا قتل ہر مسلمان پر لازم ہے۔رسول اللہ من شما میم کے گستاخ ابلیس۔قذاق - زانی۔لوطی شرابی - خارجی بے حیائی کی پوٹلی۔بے حیاء جھوٹے۔تڑا تر جوتیاں تم ان کو مارو وغیرہ وغیرہ جیسے شرعی فتاوی سے یاد کرتے تھے۔مگر اب الحمد للہ چونکہ آج کے بعد تحفظ ختم نبوت کی نئی برکت سے تمام فرقوں کو ایک دائمی اور عالمگیر برادری بنا ممکن ہو گیا ہے۔اور ہر بنیادی اختلاف اور تفریق سے محفوظ ہو کر تمام فرقوں کا مسلمان بننا ممکن ہو گیا ہے۔اس لیے دیوبندی بھائیوں سے یہ فرقہ وارانہ جنگ ختم کی جاتی ہے اور آج 24 اپریل 1984ء کے بعد سے دیو بندی