کافر کون؟

by Other Authors

Page 16 of 524

کافر کون؟ — Page 16

16 عرض حال 1998 کی بات ہے خاکسار جب لاہور سے ٹرانسفر ہو کر پشاور گیا۔وہاں خیبر پختونخواہ کے جلسہ سالانہ کے موقع پر جو مربیان تشریف لائے۔ان میں ایک نو جوان مگر ہو نہار، ہنس مکھ مربی برادرم مکرم اصغر علی بھٹی بھی تھے۔جو مانسہرہ میں مقیم تھے۔مجھے آپ سے کوئی واقفیت نہ تھی بلکہ نام سے بھی لاعلم تھا۔آپ نے ایک رات میرے ساتھ بیت احمد یہ سول کوارٹر میں قیام کیا۔اس دوران آپ نے اپنی علمی کاوشوں کا بھی تذکرہ کیا جس میں احمدیوں کی پاکستان کی خدمات کے حوالہ سے بھی ذکر تھا۔یہ امر میرے دل کو لگا۔مسودہ کود یکھنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔اتنے میں میرا تبادلہ اسلام آباد ہو گیا۔مکرم بھٹی صاحب نے اپنا رابطہ برقرار رکھا اور ایک دن فون کر کے اسلام آباد ہاتھ میں مسودہ تھامے ملنے کو آ گئے اس کو جستہ جستہ دیکھا تحریر بہت گندھی ہوئی اور آداب کے زیور سے آراستہ پائی۔انداز بیان بہت اچھوتا اور انوکھا تھا۔میری درخواست پر موصوف نے اخبارات میں خط لکھنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔اسی دوران ان کا تقرر افریقہ کے لئے ہوا۔فون پر کبھی ربوہ ان کی آمد پر اور کبھی لندن میں ملاقات ہوتی رہی۔گزشتہ سال 2012ء کے جلسہ سالانہ یو کے کے موقع پر ملاقات کے دوران انہوں نے اپنی ایک نئی تحریر " مسئلہ ختم نبوت مسجد سے قومی اسمبلی تک اور مسئلہ تحفظ ختم نبوت قرآن سے مولوی تک "مسمی بہ کل رات میں نے " کفر احمدیت " پر بہت غور کیا، کا ذکر کیا۔چند دنوں بعد اس کا مسودہ مجھے تھما دیا اور ساتھ پیش لفظ لکھنے کی بھی فرمائش کر دی۔خاکسار نے لندن میں ہی اس کا مطالعہ شروع کر دیا۔ابھی 50, 60 صفحات ہی پڑھے تھے کہ جلسہ کے مبارک دن آگئے ہم تمام وہاں مصروف ہو گئے۔مگر جلسہ کے تیسرے دن حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے آخری خطاب نے مجھے اس کتاب کے مطالعہ کی طرف میری رغبت کو بڑھا دیا، کیونکہ آپ کا خطاب ختم نبوت