کافر کون؟ — Page 134
134 ”ہمارے نزدیک ختم نبوت کے لیے یہ استدلال اپنے مقدمات کے لحاظ سے بھی غلط ہے اور نتیجہ کے اعتبار سے بھی۔انسانی ذہن کا ارتقاء جس پر اس پورے استدلال کی بناء رکھی گئی ہے صرف عالم زمانی ، مادی و طبعی کی معلومات تک محدود ہے۔رہا دینی و اخلاقی شعور، تو اس معاملہ میں ذہن انسانی کا ارتقاء کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے۔آغاز انسانیت سے لے کر آج تک پاکیزه ترین تصور ایمان و اخلاق رکھنے والے انسان اور بدترین عقائد واخلاق رکھنے والے انسان ہر دور اور ہر زمانے میں پہلو بہ پہلو پائے گئے ہیں نوع انسانی نے تاریخ و زمانی تدریج کے لحاظ سے اخلاق و ایمان میں ترقی کے کوئی مدارج طے نہیں کئے۔۔۔اس لیے ختم نبوت کے حق میں یہ دلیل سرے سے غلط ہے اس سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ قادیانیت کے ساتھ ساتھ اسلام کی بھی جڑ کاٹ دیتا ہے۔اگر ہم یہ مان لیں کہ پہلے انبیاء کی ضرورت اس لیے تھی کہ انسان بچہ تھا اور اب ان کی ضرورت اس لیے نہیں کہ اب انسان سن شعور کو پہنچ چکا ہے تو اس سے صاف طور پر نتیجہ نکلتا ہے کہ اب انسان کو سرے سے ہدایت بذریعہ نبوت کی حاجت ہی نہیں رہی یہ ایک ایسا تیر ہے جس نے بیک وقت احمدیت اور اسلام دونوں کو مجروح کر دیا ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ انسان جوان ہو جانے کی وجہ سے آئندہ نئے سہاروں سے مستغنی ہو گیا ہے تو پھر آخر اس بلوغ دہنی کے بعد پرانے سہاروں کی بھی کیا ضرورت ہے ؟ ( ترجمان القرآن لاہور اکتوبر 1952 ، صفحہ 141 | لیکن 10 سال بعد نئے سہاروں کے متمنی جب تیسرے گروہ میں داخل ہوئے تو آپ کا کیا نظر یہ تھا ؟ اب اگر بفرض محال نبوت کا دروازہ واقعی کھلا بھی ہو تو اور کوئی نبی آبھی جائے تو ہم بے خوف و خطر اس کا انکار کر دیں گے، ختم نبوت صفحہ 40-43 پر آپ نے مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے بتایا جائے کہ آخر اب کسی نبی آسمانی سہارے) کی کیا ضرورت باقی ہے۔پھر اسی صفحہ پر موٹاعنوان لگا یا: نئی ثبوت اب امت کے لیے رحمت نہیں بلکہ لعنت ہے“ (صفحہ 43) اور جناب آپ کی تفسیر ختم نبوت تو سرے سے ہی غلط۔۔۔دوسرے گروہ کے ممتاز عالم دین کی تیسرے گروہ کے علمائے دین سے مزید لڑائی دوسرے گروپ کے ممتاز عالم دین جناب مولوی حسین احمد مدنی صاحب نے مودودی صاحب کو خصوصاً اور تیسرے گروہ کے علماء دین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فرمایا: