کافر کون؟ — Page 133
133 جعفر صاحب جماعت احمدیہ کے خلاف اپنی کتاب تحریک احمدیہ میں لکھتے ہیں: اقبال کی ترجمانی کرتے ہوئے۔ناقل ) پرویز صاحب کے نزدیک ختم نبوت کے بعد ہماری احتیاج فقط یہ ہے کہ شاہراہ زندگی میں جہاں جہاں دورا ہے آئیں وہاں وہاں نشان راہ (Sign Post نصب ہوں جن پر واضح اور بین الفاظ میں لکھا ہو کہ یہ راستہ کدھر جاتا ہے اور دوسرا راستہ کس طرف۔اب صورت یہ ہے کہ زندگی کے ہر لمحے ہم ایک دوراہے سے دو چار ہیں sign post یعنی نشان راہ سے پرویز صاحب کی مراد قرآنی آیات ہیں لیکن کیا ان نشان راه (Sign Post) پر کوئی واضح اشارہ موجود ہوتا ہے؟ اس پر ہم متفق ہیں کہ قرآنی آیات میں جو ہدایات درج ہیں وہ واضح اور بین ہے خود قرآن کا یہی دعویٰ ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ پیشتر آیات کے جو معانی پرویز صاحب کرتے ہیں وہ آج تک کسی نے نہیں کئے اور قرآن کی ظاہری عبارت، سیاق و سباق اور تاریخی پس منظر کے سراسر خلاف ہیں اس صورت میں اگر پرویز صاحب کے معانی درست ہیں تو قرآنی آیات ایک ایساSign Post ہیں جن کی عبارت سمجھنے کے لیے ہر وقت ایک مذہبی راہنما کی ضرورت رہے گی بلکہ اس صورت میں بہتر یہی ہوگا کہ یہ را ہنمائی ایک نبی کے ذریعہ کی جائے تا کہ اگر قرآن کے معنی ہماری عقل کے مطابق نہیں تو کم ازکم یہ توتسلی ہو کہ ان معانی کی تائید وحی سے کی گئی ہے۔ہمارے نزدیک درست صورت یہ ہے کہ ختم نبوت کی تکمیل پر انسانی مکمل طور پر آزاد ہے۔جس طرح راستے پر چلنا اس کے اختیار میں ہے اسی طرح Sign Post مقرر کرنا بھی اس کا اپنا کام ہے جو خیال اس صورت حال کے خلاف ہے وہ لازماً اس حد تک (اقبال ناقل ) نظریہ ختم نبوت کے خلاف ہے“۔(احمد به تحریک صفحه 377 ) جناب! آپ کی تفسیر ختم نبوت بھی غلط پہلے گروپ اور تیسرے گروپ کے علماء کی مزید لڑائی پہلے گروپ کے ممتاز عالم دین جناب مودودی صاحب جعفر صاحب کے ساتھ ساتھ پرویز صاحب اور علامہ اقبال بلکہ اس تیسرے گروہ کے سب علماء کو ہی غلط سمجھتے ہیں۔نوٹ : یہ الگ بات ہے کہ یہ بات آپ نے 1952ء میں تب کہی تھی جب آپ پہلے گروہ میں شامل تھے لیکن 10 سال بعد 1962ء میں آپ بھی تیسرے گروہ میں شامل ہو گئے بلکہ تیسرے گروہ کے ممتاز عالم دین لیڈر قرار پائے۔اس پس منظر کے ساتھ جناب مودودی صاحب کا درج ذیل بیان پڑھیئے آپ کو دوہرا مزہ یا دوہری تکلیف ہوگی۔تیسرے گروہ والوں کی ختم نبوت کا مفہوم ”قادیانیت کے ساتھ ساتھ اسلام کی بھی جڑ کاٹ دیتا ہے۔۔۔۔۔۔مودودی صاحب