کافر کون؟

by Other Authors

Page 92 of 524

کافر کون؟ — Page 92

92 ” جب یہودیوں نے حضرت مسیح کے قتل کا عزم کیا تو پہلے ایک آدمی ان کے گھر میں داخل ہوا۔حق تعالی نے ان کو تو آسمان پر اٹھالیا اور اس شخص کی صورت حضرت مسیح کی صورت کے مشابہہ کر دی جب باقی لوگ گھر میں گھس آئے تو اس کو مسیح سمجھ کر قتل کر دیا۔( زير آيت ولكن شبه لهم سورة النساء شائع کردہ پاک قرآن پبلشرز پوسٹ بکس 561 ، ریلوے روڈ ، لاہور، صفحہ 132) 2۔رومی سپاہی کو نہیں بلکہ ایک یہودی کو شکل دی گئی اور اسے مصلوب کیا گیا۔تفسیر ماجدی کے مطابق او پر درج کہانی غلط ہے اصل میں یہ واقعہ یوں ہوا تھا: جیل کے رومی سپاہیوں کے لیے سب یہودی اجنبی ہی تھے انہیں ایک اسرائیلی (یسوع مسیح ناصری ) اور دوسرے اسرائیلی ( شمون کرینی ) کے درمیان کوئی نمایاں فرق ہی نہیں نظر آ سکتا تھا۔شمعون نے یقین واویلا مچایا ہوگا لیکن ادھر مجمع کا شور ہنگامہ ادھر جیل کے سپاہیوں کی اسرائیلوں کی زبان سے ناواقفیت اور پھر سولی پر لٹکا دینے کی جلدی اسی افراتفری کے عالم میں اسی شمعون کو پکڑ کر سولی پر چڑھا دیا گیا اور وہ چیختا چلاتا رہا۔حضرت مسیح قدر تا اسی ہر بونگ میں دشمنوں کے ہاتھوں سے رہا ہو گئے۔( شائع کردہ تاج کمپنی صفحہ 228) 3۔نہ معلوم وہ کون شخص تھا جسے پھانسی دی گئی اور نہ معلوم اسے کیوں پھانسی دے دی گئی۔مولا نامودودی صاحب کے مطابق او پر والی دونوں تفاسیر من گھڑت ہیں اصل بات یہ ہے کہ: پیلاطوس کی عدالت میں تو پیشی آپ ہی کی ہوئی مگر جب وہ سزائے موت کا فیصلہ سنا چکا تب اللہ تعالیٰ نے کسی وقت آنجناب کو اٹھا لیا بعد میں یہودیوں نے جس شخص کو صلیب پر چڑھایا وہ آپ کی ذات مقدس نہ تھی بلکہ کوئی اور شخص جس کو نہ معلوم کسی وجہ سے ان لوگوں نے عیسی بن مریم سمجھ لیا۔(تفہیم القرآن جلد 1 صفحه 419) 4۔اللہ تعالیٰ حضرت عیسی علیہ السلام کو وفات دے کر پھر ان کی نعش آسمان پر اٹھا لے گیا اور سزا کے طور پر یہودا اسکر یوٹی کی شکل مسیح جیسی بنادی جسے یہود نے پھانسی دے دی۔۔۔مولانا جاوید الغامدی مولا نا جاوید الغامدی اس دور میں روشن خیال عالم دین اور جدید علوم سے بہرہ ور ہونے کے دعویدار گنے جاتے ہیں۔دوسرے علماء کے برعکس ننگے سر ہر ٹی وی پروگرام میں مذہب سمجھا رہے ہوتے ہیں۔آپ کو قرآن وحدیث میں کہیں بھی مسیح علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے کا ذکر تو نہیں ملتا لیکن آپ جماعت احمدیہ کے مؤقف کو بھی درست نہیں ماننا چاہتے۔پھر آپ نے اس کا حل کیا نکالا ہے؟ آئیے سنتے ہیں انہی کی زبانی۔