کافر کون؟

by Other Authors

Page 6 of 524

کافر کون؟ — Page 6

6 17 جنوری 1992 کو تھانہ صدر کینٹ ابیٹ آباد میں وقار گل جدون صدر تحفظ ختم نبوت ایبٹ آباد کی تحریری درخواست پرزیر دفعه 298C مندرجہ ذیل افراد پر F۔IR کائی گئی۔(1) محمد احمد بھٹی (2) مبشر احمد (3) ابرار (4) احمد بھٹی (5) انور احمد بھٹی (6) مدثر احمد (7) شیر از احمد (8) اعجاز احمد (9) شوکت احمد تحریری درخواست میں لکھا گیا کہ میں اپنے دوست مسمی اعجاز احمد سکنہ اقبال روڈ کو ملنے آیا۔جو نہ ملا جس پر ہم واپس جارہے تھے کہ ایک مکان 77 تنولی ہاؤس جس کے باہر تنولی ہاؤس لکھا ہوا تھا جو اقبال روڈ پر واقع ہے کے قریب پہنچے تو اندر سے آواز آئی کہ وضو جلدی کر لیں نماز کا وقت ہو گیا ہے جس پر ہم دونوں سمجھے کہ مسجد ہے۔اندر چلے گئے اور وہاں پر موجود ایک سفید داڑھی والے شخص نے کہا کہ نماز کے بعد درس بھی ہوگا۔وہاں پر چند افراد نماز پڑھنے کے لیے تیار کھڑے تھے اور ہم مسجد کے آثار نہ پا کر باہر آ گئے۔جب اس گھر سے باہر نکلے تومسمی عابد علی ولد صادق ساکن مغلپورہ سے ملاقات ہوئی جس سے ہم نے اس گھر کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہاں پر مرزائی عرصہ دراز سے اکٹھے ہو کر نماز پڑھتے اور اذان بھی ہوتی ہے۔اس کے آگے دل آزاری کی داستان، قانون شکنی کی نشاندہی اور اس خوفناک جرم کو روکنے اور مجرمان کو پابند سلاسل کرنے کی دہائی درج ہے۔یہ رپٹ درج کروانے والا شخص ایک مجاہد ختم نبوت تھا جس کی آہ وزاری پر یہ پرچہ درج ہوا اور ملزموں کی گرفتاری کے لیے قانون حرکت میں آ گیا۔پھر ڈوبتے سورج نے ایبٹ آباد کے فوارہ چوک میں یہ حیرت انگیز منظر بھی دیکھا کہ شہر کے سرکردہ علماء نے شاہراہ ریشم بلاک کر کے چوک میں صفیں ڈال دیں۔مغرب کی نماز ادا کی گئی اور پھر ملزموں کی گرفتاری کے لیے لمبی چوڑی تقاریر کی گئیں۔جرم اور اس کی قباحت و کراہت واضح کی گئی۔دلوں کے مجروح ہونے کی دکھی بپتا سنائی گئی۔ایبٹ آباد سے سلہڈ تک اور مانسہرہ کی طرف میر پورتک ٹریفک کی لمبی قطاریں کسی ہولناک جرم کے سرزد ہونے کی نشاندہی کر رہیں تھیں۔رات گئے مکرم عزت مآب جناب DC صاحب، ایبٹ آباد کے سرکٹ ہاؤس میں ایک پر ہجوم پریس کا نفرنس سے خطاب کر رہے تھے جسے اگلی صبح کی تمام لوکل اخبارات نے Lead Story کےطور پر جگہ دی۔آپ نے فرمایا تھا کہ آئندہ سے ضلع ایبٹ آباد کی حدود میں کسی قادیانی کو عبادت کرنے کا موقع نہیں دیا