کافر کون؟

by Other Authors

Page 518 of 524

کافر کون؟ — Page 518

518 دیئے۔حصول خوراک کی اس کوشش میں بعض باریش معززین کے مابین تلخ کلامی بھی ہوئی اور نوبت ہاتھا پائی تک جا پہنچی جس کے نتیجے میں تمیضیں اور آستینیں پھٹ گئیں۔ٹوپیاں اور دستاریں پاؤں تلے روند دی گئیں یہ مظاہرہ کم وبیش آدھ گھنٹے تک جاری رہا۔متعدد معززین کئی کئی لنچ بکس گاڑیوں میں رکھ کر نا معلوم مقام پر لے جاتے ہوئے دیکھے (روز نامہ اوصاف اسلام آباد 5 اکتوبر 1998 ء ) دوستو! تحقیق کی اس منزل پر پہنچ کر میرے لیے فیصلہ کرنا بالکل آسان ہو گیا۔میں اپنا فیصلہ اسی جماعت کے حق میں دیتے ہوئے جماعت احمدیہ کو امام مہدی کی سچی اور حقیقی فوج سمجھتے ہوئی اسے خدائی درخت سمجھ کر آنحضور صل الا السلام کے حکم کے مطابق اس میں شمولیت کا اعلان کرتا ہوں اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی بیعت کا اعلان کرتا ہوں آخر پر میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا ایک اقتباس لکھ کر اس مضمون کو ختم کرتا کہ دوستو ! خدائی فوج دار کی آواز کو غور سے سنو! تحقیق کرو اور ایسا نہ ہو کہ کل ہم محترمین خدا کے حضور نافرمانوں میں کھڑے ہوں۔میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں آخری اختیاه اے نادانو ! اور اندھو مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو میں ضائع ہو جاؤں گا کس بیچے وفادار کو خدا نے ذلت کے ساتھ ہلاک کردیا جو مجھے ہلاک کرے گا۔یقینا یا درکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ بیچ ہیں۔میں کسی کی پرواہ نہیں کر سکتا میں اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر ناراض نہیں کیا خدا مجھے چھوڑ دے گا۔کبھی نہیں چھوڑے گا کیا وہ مجھے ضائع کردے گا کبھی نہیں ضائع کرے گا۔دشمن ذلیل ہو نگے اور حاسد شرمندہ اور خدا اپنے بندہ کو ہر میدان میں فتح دے گا میں اس کے ساتھ اور وہ میرے ساتھ ہے کوئی چیز ہمارا پیوند تو ڑ نہیں سکتی۔اور مجھے اس کی عزت اور جل کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی بھی چیز پیاری نہیں کہ اس کے دین کی عظمت ظاہر ہو۔اس کا جلال چمکے اور اس کا بول بالا ہو کسی ابتلاء سے اس کے فضل کے ساتھ مجھے خوف نہیں اگر چہ ایک ابتلا نہیں کروڑا ابتلا ہو۔ابتلاؤں کے میدان میں اور دکھوں کے جنگل میں مجھے طاقت دی گئی ہے۔من نہ آستم که روز جنگ بینی پشت من آں منم کا ندرمیاں خاک و خوں بینی سرے (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد 9 صفحه (23)