کافر کون؟ — Page 517
بے نقاب چہرے 517 جناب اسلم کھو کھر صاحب اپنے کالم میں لکھتے ہیں : بات اتنی پرانی بھی نہیں کہ قصہ پارینہ بن جائے۔ابھی اس قابل شرم واقعے کو اتنے دن بھی نہیں ہوئے کہ ایک ماہ کوگر ہیں لگ سکیں۔یہ پانچ اگست کا واقعہ ہے۔اسلام آباد کے کنونشن سنٹر جسے فتوئی گاہ قرار دیا جا سکتا ہے، میں ملک بھر سے علماء نے شرکت کی تاکہ اس بل کے اندر پائے جانے والے سقم پر صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کو لحد کا فر اور لادین قرار دے کر حکومتی گاڑی کے رستے میں آنے والے سپیڈ بریکر وں کو ختم کیا جا سکے۔کنونشن کے اختتام پر وہاں جو کچھ ہوا اسے سانحہ قرار دیا جا سکتا ہے۔میں پہلے اس واقعے کی خبر کو رقم کر رہا ہوں جو ایک معاصر اخبار کے نامہ نگار خصوصی نے رپورٹ کی ہے۔خصوصی نفاذ شریعت سے متعلق حکومت کو تجاویز دینے کے لئے ملک بھر سے آئے ہوئے علمائے کرام اور مساجد کے خطیب کنونشن سنٹر کے سبزہ زار میں لنچ بکسوں کا پیچھا کرتے ہوئے ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔بعض مذہبی شخصیات با قاعدہ ہاتھا پائی پر اتر آئیں۔متعدد علمائے کرام کے کپڑے پھٹ گئے میزیں ٹوٹ گئیں۔شامیانے اکھڑ گئے۔اور بعض کمزور صحت رکھنے والے حضرات دھینگا مشتی میں کچلے گئے۔بعد ازاں بعض معززین کو درجنوں لنچ بکسوں کے ساتھ جاتے دیکھا گیا جبکہ لنچ بکسوں کے حصول کی جدوجہد میں مصروف مذہبی شخصیات کی چیخ و پکار سے بے نیاز کنونشن سنٹر میں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار پر سکون انداز میں لنچ کرتے رہے۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز وزارت مذہبی امور کی طرف سے نفاذ شریعت کے سلسلے ایک خ مشاورتی کنونشن کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں شرکت کے لیے ملک بھر سے علمائے کرام مساجد کے خطیب اور دیگر مذہبی شخصیات مدعو تھیں۔کنونشن با قاعدہ ساڑھے دس بجے شروع ہوا۔اور کسی وقفے کے بغیر دو پہر سوا دو بجے تک جاری رہا۔وزیر اعظم محمد نواز شریف کنونشن کے آخری مقرر تھے۔ان کی تقریر ختم ہوتے ہی دعا کرائی گئی جو نہی اجتماعی دعا ختم ہوئی شرکا ء اور شرفانے تیزی سے اور پوری قوت کے ساتھ سبزہ زار کا رخ کیا اور ایک عدد نان ایک عدد شامی کباب ایک عددسیب اور ایک عدد فراسٹ جوس پر مشتمل تھا بظاہر تعداد میں خاصے لنچ بکس موجود تھے لیکن ایک لنچ ایک مندوب کی طرف سے کئی کئی لنچ بکس حاصل کرنے کی جد و جہد نے قواعد وضوابط کو تہس نہس کر دیا۔اور ظہرانے کی انتظامیہ ہینڈ زاپ کر کے ایک طرف ہوگئی۔گتے کے بنے ہوئے لنچ بکس پھٹ گئے اور ان میں رکھی خوراک زمیں پر گر کر پاؤں میں آنے لگی چونکہ لنچ بکس میزوں پر رکھے ہوئے تھے اسی لئے مندوبین کے شدید اور اچانک حملے کی وجہ سے درجنوں میزیں ٹوٹ گئیں۔اور ایک دوسرے کو دھکے دینے کے عمل نے شامیانے اکھیڑ