کافر کون؟

by Other Authors

Page 516 of 524

کافر کون؟ — Page 516

516 بانی سلسلہ احمدیہ کے اپنے فتح یاب ہونے اور دشمن کے ناکام و نامراد ہونے والی دو ہری پیشگوئی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پوری ہو چکی ہے۔آج علماء کے پاس جماعت احمدیہ کی تبلیغ کو بذریعہ قانون اور دھونس دھاندلی کے روکنے کے کوئی چارہ کا رنہیں رہ گیا۔اسی وجہ سے جماعت احمدیہ کو ایک طرف الیکشن میں غیر مسلم قرار دے کر حکومتی دوڑ سے الگ کر دیا گیا ہے اور دوسری طرف ہر حکومت کو اس شرط کے ساتھ اپنی خدمات پیش کی جارہی ہیں کہ وہ احمدیت پر ظلم کا دائرہ ٹوٹنے نہ دے بلکہ اس کو اور سخت کر دے۔لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود جماعت احمدیہ کی صداقت نصف النہار بن کر نہ صرف سطح ارض کے افق کی شان بن چکی ہے تو دوسری طرف نام نہادمی فطین ختم نبوت کی رسوائیاں نصف النہار بن کر ان کی ذلت کا ہار بن چکی ہیں۔آپ نے ایک طرف سلسلہ احمدیہ کی بے جا مخالفت کرنے والوں کو ان کے انجام کے آئینہ یوں دکھا دیا تھا۔خدا رسوا کرے گا تم کو میں اعزاز پاؤں گا سنو اے منکرو اب یہ کرامت آنے والی ہے خدا کے پاک بندے دوسروں پر ہوتے ہیں غالب دلوں میں اس نشاں سے استقامت آنے والی ہے مری خاطر خدا سے یہ علامت آنے والی ہے تیرے مکروں سے اے جاہل مرا نقصان نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑھ کر سلامت آنے والی ہے اگر تیرا بھی کچھ دیں ہے بدل دے جو میں کہتا ہوں کہ عزت مجھ کو اور تجھ پر ملامت آنے والی ہے بہت بڑھ بڑھ کے باتیں کی ہیں تو نے اور چھپایا حق مگر یاد رکھو اک دن ندامت آنے والی ہے بڑھ بڑھ کے باتیں کرنے والے ان ٹھیکیدار نما لوگوں کو خدا کی پکڑنے ندامت کی کس وادی میں لاپتا ہے یہ بات ان کے ضمیر علم ایمان اور ظرف کی کتنی شفاف آئینہ دار ہے جماعت احمدیہ کی سچائی کی یہ کتنی بے باک دلیل ہے کہ وہ لاکھوں سے نکل کر کروڑوں میں پھیل گئے۔ان کی مالی قربانی کے بجٹ کروڑوں ڈالر کو چھورہے ہیں اور ان کے مخالفین روٹی کے ایک ایک ٹکڑے پر ایک دوسرے کی داڑھیاں نوچ رہے ہیں۔“ خدا جب ایمان لیتا ہے حماقت آ ہی جاتی ہے۔ایک سچی کہانی ایک سچا عبرت انگیز واقعہ: