کافر کون؟ — Page 494
494 یا درکھو! میرا سلسلہ اگر نری دکانداری ہے تو اس کا نام ونشان مٹ جائے گا لیکن اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور یقینا اسی کی طرف سے ہے تو ساری دنیا اس کی مخالفت کرے۔یہ بڑھے گا اور پھیلے گا اور فرشتے اس کی حفاظت کریں گے۔اگر ایک شخص بھی میرے ساتھ نہ ہو اور کوئی بھی مدد نہ دے تب بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ کامیاب ہوگا۔( ملفوظات جلد 8 صفحہ 147 ) آج سوسال کی مسافت پر کھڑے ہو کر اب میرے لیے فیصلہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔نام ونشان مٹانے والے ضرور مٹے ہیں مگر احمدیت کا نام چار دانگ عالم میں پھیل رہا ہے جو صاف ثابت کرتا ہے یہ دکانداری نہ تھی۔بلکہ خدائی سلسلہ ہی ہے۔اگست 1999ء استہزاء اور طعن تشنیع کا انجام دوستو! احمدی تبلیغ جہاں برصغیر سے نکل کر دنیا کے تمام براعظموں میں پھیل گئی وہیں ٹھیک اس طرح سے دوسری طرف محافظین ختم نبوت کے پیرو کا راب ان جلسوں میں بھی آنے کے لیے تیار نہیں جن میں ان کے محبوب علما محو تقریر ہوتے ہیں۔دنیا کی تاریخ میں یہ سانحہ بھی ایک عجیب شان رکھتا ہے۔ایک طرف احمدیت کے نعرے دنیا کے چپے چپے سے بلند ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف احمدیت کو تباہ و برباد کر دینے کے نعروں والے حضرات اپنے سامعین کی راہیں تکتے تکتے اونگھنا شروع ہو گئے ہیں۔یہ خدا کا انتقام ہے یا احمدیت کی سچائی کی دلیل فیصلہ کرنے میں میری مدد کیجئے گا۔جب استہزاء عروج پر تھا 1953 ء کا سال احمدی غیر احمدی کہانی میں ہمیشہ یادر کھا جائے گا اس سال مجلس احرار نے جماعت احمدیہ کے خلاف استہزاء کو اپنے عروج پر پہنچا دیا۔ان دنوں کے حالات قلمبند کرتے ہوئے مصنف پاکستان کے مذہبی اچھوت“ لکھتا ہے۔و مجلس احرار کے جلسوں میں عوام کے لیے لغویات کے سوا کچھ نہ ہوتا۔احمدیوں کے ملک دشمن۔چوہدری ظفر اللہ کی پالیسیوں پر لایعنی تنقید اور مذہب کے نام پر عوام کے جذبات کو بھڑکا کر بانی جماعت احمدیت۔امام احمدیت اور سرکاری عہدوں پر فائز احمدی افسران کے خلاف نعرہ بازی کروائی جاتی احمدیوں کے قتل کو جنت میں داخلے کی ٹکٹ قرار دیا جاتا 19 اگست کو احمدیوں کے خلاف جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ شاہ بخاری نے یہاں تک کہہ