کافر کون؟

by Other Authors

Page 493 of 524

کافر کون؟ — Page 493

493 کے سوالوں جواب دینے کون جائے گا“ شائع ہوا۔تفصیل یہ ہے کہ جرمنی، نجیم ، اور ہالینڈ کی مشترکہ مسلمان اسپرانتو ایسوسی ایشن نے ایک محفل سوال وجواب مورخہ 27 اپریل 1997ء کو جرمنی کے شہر آچن (Aachen) میں منعقد کرنے کا پروگرام بنایا اور اس کے لیے جو زیادہ سوال پوچھے جاتے ہیں وہ تیار کئے جو تعداد میں دس تھے۔اس کے بعد مجوزہ سوال جواب کی محفل سے سات مہینے قبل اکتوبر 1996ء میں پاکستان کے 32 جید علماء کرام کو یہ سوال بھیج دیئے گئے۔ان علماء کرام میں قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق ، مولانا فضل الرحمن، مولانا نورانی نیازی سمیت قریباً ہر فرقہ کے ممتاز عالم دین شامل تھے۔ان سوالوں کو دیکھ کر کوئی بھی عالم دین اس محفل میں جانے کے لیے تیار نہ تھا جبکہ سفر اور رہائش کے اخراجات بھی یہ ایسوسی ایشن ہی مہیا کر رہی تھی۔نئی صورت حال کے تحت ایسوسی ایشن نے 6 ستمبر 1996 ء کو پنڈی میں ایک سیمنار منعقد کیا اور تمام علماء دین کو دعوت دی کہ وہ اس فورم پر آکر ان سوالوں کے جوابات ریکارڈ کروادیں تا کہ ویڈیو فلم کے ذریعہ سے جوابات اس محفل میں حاضرین کو سنا دیئے جاسکیں۔لیکن سیمینار میں بھی کسی عالم دین نے آنے کی جرات نہ کی آخر کار 24 مارچ 1997ء کو اس ایسوسی ایشن نے یہ ساری کہانی اور وہ 10 سوال روز نامہ اساس میں شائع کروا دیئے اور اس میں مجبوراً یہ اعتراف بھی دنیا کے لیے پیش کر دیا۔زیر نظر تحریر پڑھتے وقت یہ بات پیش نظر رہے کہ یورپ کے ایک ملک سے قادیانیوں نے STN طرز کا ایک طرز کا ایک ٹی وی سٹیشن کرائے پر لے رکھا ہے جس پر 24 گھنٹے اسلام کے نام پر اپنے مسلک کی ترویج اور فروغ کے لیے انگریزی، ہسپانوی، اٹالین، فرانسیسی، جرمن، عربی اور اسپرانتو جیسی عالمی زبانوں میں نشریات پیش کی جاتی ہیں۔ساری دنیا میں الیکٹرانک میڈیا۔لٹریچر اور عقلی و سائنسی دلائل کے ذریعہ اسلام کے نام پر جتنا کام مرزائی اور قادیانی کر رہے ہیں اتنا ہم مسلمانوں نے سوچا بھی نہیں“۔(روزنامه اساس 24 مارچ 1997 ء ) | دوستو! میں نے مڑکر مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری سمیت علماء کے اقوال کو دیکھا۔پیر مہر علی شاہ صاحب کے لیے ایک دوسرے عالم دین کی پیشگوئی کوسنا۔1953ء، 1974ء کے بڑھکتے شعلوں اور قرار دادوں کو دیکھا۔قادیانیت کے سکڑنے کا وقت آ گیا جیسے اعلان کا بغور مطالعہ کیا۔اور پھر روز نامہ اساس میں پھیلے اس اعتراف بے بسی کا مشاہدہ کیا تو جواب میں حضرت مرزا صاحب کے الفاظ نوشتہ دیوار بن کر نظر آنے لگے: