کافر کون؟ — Page 492
492 امیر نہیں۔جس کی اشد ضرورت ہے“۔سر پہ اک سورج چمکتا ہے مگر آنکھیں ہیں بند مرتے ہیں بن آب وہ اور در پہ مہر خوشگوار نومبر 1994ء قادیانی اب سٹیلائٹ کے ذریعہ گھر گھر پہنچ گئے ہیں ان سے بچایا جائے۔۔۔۔ہفت روزہ زندگی کی دہائی ہفت روزہ زندگی لاہور نے اپنی 4 نومبر تا 10 نومبر 1994ء کی اشاعت میں زیر عنوان ” قادیانی سٹیلائیٹ - ٹیلی ویژن چینل درج ذیل خبر درج کی نوائے وقت راولپنڈی 8 اکتوبر 1994ء کی ایک خبر ملاحظہ کیجئے۔قادیانی چینل ، صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا فیصلہ۔حکومت کو روز سینکڑوں احتجاجی خطوط اور تار موصول ہو رہے ہیں عوامی تشویش کے پیش نظر حکومت نے ایم۔ٹی۔اے سے متعلق تفصیلات طلب کر لیں“۔اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) قادیانیوں نے انٹر نیشنل چینل ایم۔ٹی۔اے سے عوام کو گمراہ کرنے کے لیے 12 گھنٹے کی جو نشریات شروع کر رکھی ہیں اس پر ملک بھر میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔پتہ چلا ہے کہ اس سلسلہ میں حکومت کو ہر روز سینکڑوں کے حساب سے احتجاجی خطوط اور تار موصول ہورہے ہیں ان کے پیش نظر حکومت پاکستان نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قادیانیوں کے یہ پروگرام سٹیلائیٹ سٹیشنز 21 کے ذریعہ ہر روز صبح 11 بجے سے رات 11 بجے تک ٹیلی کاسٹ کیے جاتے ہیں جو دس فٹ قطر کی ڈش انٹینا کے ذریعہ دیکھے جاسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں نے مری روڈ راولپنڈی پر واقعہ اپنی عبادت گاہ میں ایک بڑا ڈش انٹینالگا رکھا ہے اور یہاں قادیانیوں کو پروگرام دکھائے جاتے ہیں۔اگر چہ یہ پروگرام پاکستان سے باہر سے ٹیلی کاسٹ کیے جاتے ہیں تاہم حکومت نے عوام کی تشویش کے پیش نظر تفصیلات طلب کر لی ہیں“۔(مندرجہ بالا مضمون اشتہار کی صورت میں ہفت روزہ زندگی میں تحریک فہم القرآن کی طرف سے میجر منہاس صاحب نے شائع کیا) مارچ 1997ء ہمارے علماء تو دس سوالوں کے جواب بھی نہیں دے سکتے جبکہ قادیانی اتنی تبلیغ اسلام کر رہے ہیں جتنا کبھی ہم نے سوچا بھی نہیں۔۔۔بین الاقوامی مسلمان اسپرانتو ایسی سی ایشن کی دہائی روز نامہ اساس 24 مارچ 1997 سے غیر احمدی داستان کا ایک عبرت انگیز ورق۔عالمی مسلمان اسپرانتو ایسوسی ایشن کی جانب سے روز نامہ اساس 24 مارچ 1997ء میں ایک لمبا چوڑا مضمون زیر عنوان۔علماء کرام سے غیر مسلموں کے دس سوال : جرمنی میں ہونے والی بین الاقوامی اسلامی کا نفرنس میں غیر مسلموں