کافر کون؟ — Page 490
490 خبر کا متن یہ ہے : ربوہ : جماعت احمدیہ کے سر براہ مرزا طاہر احمد نے کہا ہے کہ دنیا میں سب سے بڑی برائی جھوٹ ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ بدظنی بھی جھوٹ ہے اور دنیا کے اکثر جھگڑے بدظنی سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔جھوٹ رزق کو کھا جاتا ہے۔اور جھوٹ بولنے والی قوموں کا رزق چھین لیا جاتا ہے۔اس میں دیندار اور غیر دیندار کا کوئی فرق نہیں۔جو قو میں سچ کو اختیار کرتی ہیں ان کے رزق میں برکت ملتی ہے۔مسلم دنیا کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایک دوسرے کیسا تھ محبت سے پیش آیا جائے۔اور بھائیوں جیسے تعلقات قائم کئے جائیں۔ان کا یہ خطبہ مواصلاتی سیارے کے ذریعے دنیا کے چار براعظموں میں ٹی وی پر دیکھا اور سنا گیا۔ان براعظموں میں عنقریب آسٹریلیا، ایشیاء، یورپ اور افریقہ شامل ہیں۔ان کے خطبات امریکہ اور کینیڈا میں بھی اسی طرح براہ راست مواصلاتی سیارے کے ذریعہ ڈش انٹینا کے ذریعے دیکھے اور سُنے جایا کریں گے۔(روز نامہ جنگ 25 اگست 1992 ء ) ( ہفت روزہ اہلحدیث لاہور 11 ستمبر 1992 صفحه 11-12 معزز قارئین نے مندرجہ بالا بصیرت افروز مضمون پڑھ لیا ہے۔یہ مضمون پڑھکر بعض سوالات ذہن میں اُبھرتے ہیں۔مثلاً : 1۔ہمارے علماء حضرات یہ خوشخبریاں سنانے کے عادی ہیں کہ قادیانی جماعت مٹ رہی ہے، بکھر گئی ہے حتی کہ دم تو ڑ رہی ہے لیکن یہ مضمون بتاتا ہے کہ یہ جماعت مری مٹی نہیں نہ ہی دم توڑ رہی ہے۔بلکہ پہلے سے کئی گنا زیادہ پھیلا ؤ اور استحکام پاچکی ہے۔2 مضمون نگار نے مرزا طاہر احمد کے خطبہ کا اقتباس شامل کر کے سادہ ذہنوں کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔کہ قادیانیوں کا بجٹ کروڑوں کے لگ بھگ ہے۔اور دینی جماعتوں کا بمشکل لاکھوں میں ہے۔اور یہ سچائی سے رزق میں برکت آتی ہے۔جھوٹ سے رزق میں کمی آتی ہے۔کیا مضمون نگار یہی احساس دلانا چاہتا ہے؟ مئی 1994ء قادیانیت ہماری ہر کوشش کے باوجود ختم نہیں ہوئی بلکہ اب تو وہ ساری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔علامہ جاوید الغامدی جماعت اسلامی کے ترجمان ہفت روزہ زندگی نے علامہ جاوید الغامدی سے احمدیت کو تباہ کرنے کے پروگرام کے بارے میں انٹرویو کیا تو جواب میں تاریخ کو درج ذیل اعتراف وصول ہوا۔س: قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے کیا وہ درست ہے؟ کیا غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی اسمبلی آئین میں اس ترمیم کی مجاز قرار دی جاسکتی ہے؟