کافر کون؟

by Other Authors

Page 486 of 524

کافر کون؟ — Page 486

486 تبلیغ اسلام کا ہر مہرا صرف احمدیوں کے ہی سر پر ہے وہ عیسائیوں کو ہو یا ہندوؤں کو۔۔۔مولانا اشرف علی تھانوی خلیفہ مجاز مولانا عبد الماجد دریابادی کا اعتراف مولانا ایک تبلیغی خبر کے زیر عنوان درج ذیل اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔مشرقی پنجاب کی ایک خبر ہے کہ اچار یہ دونو بھاوے جب پیدل سفر کرتے کرتے وہاں پہنچے تو انہیں ایک وفد نے قرآن مجید کا ترجمہ انگریزی اور سیرۃ النبوی پر انگریزی میں کتابیں پیش کیں۔یہ وفد قادیان کی جماعت احمدیہ کا تھا۔خبر پڑھ کر ان سطور کے راقم پر تو جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا اچار یہ جی نے دورہ اودھ کا بھی کیا بلکہ خاص قصبہ دریا باد میں قیام کرتے ہوئے گئے لیکن اپنے کو اس قسم کا کوئی تحفہ پیش کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔نہ اپنے کو نہ اپنے کسی ہم مسلک کو۔نہ ندوی۔دیو بندی تبلیغ اسلامی جماعتوں میں سے۔آخر یہ سوچنے کی بات ہے یا نہیں کہ جب بھی کوئی موقع تبلیغی خدمت کا پیش آتا ہے۔یہی خارج از اسلام جماعت شاہ نکل آتی ہے اور ہم دیندارمنہ دیکھتے رہ جاتے ہیں“۔صدق جدید لکھنو 19 جون 1969 ء ) مہمیز 1970ء کے بعد ہم ایک ہنگامی دور میں داخل ہوتے ہیں 7 ستمبر 1974ء کو جماعت احمدیہ کو قومی اسمبلی نے غیر مسلم قرار دے دیا اس کے ٹھیک 10 سال بعد نئی حکومت نے احمدیوں کو اسلامی شعائر سے بھی منع فرما دیا اور اس کے لیے تین سال سزا اور جرمانہ کا قانون پاس کر دیا۔سینکڑوں نہیں ہزاروں احمدی احباب کو کلمہ پڑھنے۔اسلام علیکم کہنے اور تبلیغ کے جرم میں پس زندان بھی ڈال دیا۔ان سب اقدامات کا حاصل وصول کیا ہوا۔جماعت احمدیہ کی ترقی کی رفتار رک گئی ؟ کم ہوگئی ؟ یا غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ؟۔آئیے اس کا جائزہ تازہ ترین اعترافات سے لیتے ہیں۔1992 آج کے دور میں احمدی یورپ اور امریکہ جیسے ملکوں میں جس یکسوئی سے تبلیغ اسلام میں مصروف ہیں اسے دیکھ کر آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا کہ کیا واقعی یہ لوگ جھوٹے ہیں؟ منیجنگ ایڈیٹر ماہنامہ مہارت لاہور ناصر مصطفی فیروز کا دورہ یورپ سے واپسی پر اعتراف۔حیران ہوں، روؤں دل کو، کہ پیٹوں جگر کو میں ناطقہ سر بہ گربیاں ہے اسے کیا کہئے گذشته چند ماه امریکہ برطانیہ اور یورپی ممالک میں بسلسلہ سیاحت جانے کا اتفاق ہوا۔یورپ اور افریقہ کے بہت سے ممالک اور امریکہ کے ملک کینڈا میں وہ فرقہ جسے پاکستان میں غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے اور قانونی طور پر