کافر کون؟ — Page 485
485 ( آزاد 6 فروری 1953 ء ) راہ میں حائل ہونے والی ہر طاقت ہٹادی گئی۔قانون کو ہاتھ میں لے لیا گیا۔زندگی موت کے شعلوں کے سپرد کر دی گئی مگر نتیجہ ؟ کیا قادیانیوں کو شکست ہوگئی؟ یہی جاننے کے لیے میں نے 1953 ء سے 5 سال دور 1958ء کے برساتی مہینے میں چھلانگ لگائی۔مگر یہاں بھی جو اعتراف سننے کو ملا وہ اُس خدائی فیصلہ سے مختلف نہ تھا جو 1889 ء سے جماعت احمدیہ کے حق میں چلا آ رہا ہے۔پوری دنیا کو تبلیغ اسلام کرنے کا فخر صرف اور صرف احمدیت کے نصیب میں جاچکا ہے۔ایڈیٹر جد و جہد کا اعتراف ایڈیٹر ماہنامہ جد و جہد جماعت احمدیہ کی تین خوبیوں کے عنوان کے تحت درج ذیل خبر درج کی ہے۔پاکستان اور بھارت میں بیسوں فرقے موجود ہیں جن کو نام سے غرض ہے کام سے کوئی واسطہ نہیں بحث وتمحیص میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں لیکن عمل مفقود حالانکہ صرف عمل کر کے دکھلانا ہی اسلام کی خوبی ہے ورنہ مسلمان کا ہر دعوی عاشقی ایک مجذوب کی بڑسے کم نہیں۔قطع نظر عقائد کے عملی طور پر مرزائی (احمدی) فرقہ باقی تمام فرقوں سے تین باتوں میں فوقیت رکھتا ہے۔1۔اسلامی مساوات ان میں اونچ نیچ شریف رذیل ادنی اعلی کی تمیز کم ہے سب کی عزت کرتے ہیں۔2۔بیت المال کا قیام یہ ایک با قاعدہ شعبہ ہے جس میں ہر مرزائی (احمدی ناقل) کو اپنی ماہوار آمداً کا 1/10 لا زما دینا پڑتا ہے صدقات۔خیرات۔فطرانہ۔وغیرہ سب جمع کر کے یہ رقم صدقات جاریہ میں خرچ کی جاتی ہے۔3 تبلیغ اسلام یہ فخر صرف اسی فرقہ کو حاصل ہے کہ سنی شعیہ۔وہابی دیوبندی۔چکڑالوی فرقہ کے لوگوں سے تعداد میں کم ہوتے ہوئے پھر بھی لاکھوں روپیہ سالانہ خرچ کر کے اپنے بل پر تبلیغی مشن غیر اسلامی ممالک میں بھیجتے ہیں اور خدا اور رسول سلام السلم ) کا پیغام غیر مسلمانوں تک پہنچاتے ہیں۔ہمارے دیس میں بڑے بڑے امیر لوگ موجود ہیں اور فلاحی انجمنیں قائم ہیں مثلاً انجمن حمایت اسلام لاہور جولاکھوں روپیہ تعلیم پر خرچ کرتی ہے لیکن کوئی اللہ کا بندہ یا انجمن اس طرف تو جہ نہیں دے رہی۔(ماہنامہ جد و جہد لا ہور جولائی 1958 ء) $1969