کافر کون؟ — Page 484
484 عظیم تر ہنگامہ کے باوجود قادیانی جماعت اس کوشش میں ہے کہ اس کا 57-1956ء کا بجٹ پچیس لاکھ روپیہ کا ہو۔1953ء کے وسیع ترین فسادات کے بعد جن لوگوں کو یہ وہم لاحق ہو گیا ہے قادیانیت ختم ہوگئی ہے یا اس کی ترقی رک گئی انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ بلدیاتی اداروں میں بلکہ ( بعض اطلاعات کی بناء پر مغربی پاکستان اسمبلی میں قادیانی ممبر منتخب کئے گئے ہیں۔(المنير 23 فروری 1956 ، صفحہ 10 ایڈیٹر کے اس اعتراف کے ٹھیک 32 سال بعد المنیر کے ہی سب ایڈیٹر امتیاز بلوچ صاحب بدلے حالات میں جماعت احمدیہ کی بدلی ہوئی تصویر کو اس طرح سے پیش کرتے ہیں۔$1998 آج ہر قادیانی تن من دھن سے قربانی کر رہا ہے اور ڈش انٹینا کی مدد سے ان کی تبلیغ دنیا کے کناروں کو چھورہی ہے۔۔۔33 سال بعد ایک اعتراف کا تسلسل " آج میں عمر کی تیس بہاریں دیکھ چکا ہوں۔ایسے ادارے کے ساتھ وابستہ ہوں جس کے بانی نے تمام عمر قادیانیت کے خلاف لڑنے میں گزاری ہے میری مراد مولانا عبدالرحیم اشرف ہے اس ادارے میں مجھے رو قادیانیت پر بہت سی کتابیں پڑھنے اور علماء کی مجالس میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے اور میں اب جا کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ قادیانی ایک فرقہ ہی نہیں ایک منظم تحریک ہے۔یہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہمہ تن مصروف عمل ہے ان کا جال قادیان ربوہ سے لے کر برطانیہ اور کئی دوسرے ممالک تک پھیل چکا ہے۔اور ہر قادیانی تن من دھن سے اپنی تحریک کی خاطر قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ڈش انٹینا کی مدد سے قادیانی کی تبلیغ دنیا کے کونے کونے تک پہنچ رہی ہے۔گھر تو گھر انہوں نے ڈش انٹینا ان چاردیواریوں میں بھی نصب کر رکھے ہیں جنہیں یہ مساجد کا نام دیتے ہیں۔قادیانی اور ان کی تحریک کبھی نہ پھولتی پھلتی اگر ہم مسلمانوں میں دینی شعور موجود ہوتا۔ہماری کم علمی دین سے عملاً بیگانگی کا ان لوگوں نے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا ہے“۔$1958 ہفت روزہ الاعتصام اگست 1998 ء۔بحوالہ الفضل انٹرنیشنل 27 نومبر تا 3 دسمبر 1998 ، صفحہ 16 | 1953ء کی لوٹ مار کے پس منظر میں مجھے ختم نبوت کے آرگن آزاد کی یہ پیشگوئی صدا یا در ہے گی کہ ”ہمارا ایمان ہے کہ مرزائیوں کو شکست ہوگی اور جو طاقت بھی ہمارے پروگرام میں حائل ہو گی ہم اسے بھی ہٹا دیں گے۔