کافر کون؟ — Page 473
مصرع ہے: 473 میرے ہاتھوں ہی سے ان کی مرگ بے ہنگام ہے۔چٹان 14 ستمبر 1974 ء ) 1936۔۔۔جلد قادیانیت ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے گی۔۔۔مولانا ظفر علی خان 1936ء میں مولانا ظفر علی خاں نے اپنے شعری مجموعہ ” ارمغان قادیان کے ضمن میں لکھا: تم کو گر منظور ہے سیر جہاں قادیان اے مسلمانو! خرید و ارمغان قادیان جی کو بہلاو گے کیونکر گر نہ لو گے یہ کتاب کیونکہ مٹ جانے کو ہے نام ونشان قادیان قادیانیت الحمدللہ ختم ہونا شروع ہوگئی ہے۔1936 ء۔۔۔ڈاکٹر علامہ اقبال کی رائے جمہوریت کی نئی روح جو ہندوستان میں پھیل رہی ہے وہ یقینا احمدیوں کی آنکھیں کھول دے گی اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ ان کی دینیاتی ایجاد بالکل بے سود ہے علامہ اقبال کی پیشگوئی ( پنڈت نہرو کے سوالات کے جواب میں 22 جنوری 1936 ء ) | یہ باور کرتے ہوئے کہ میرے دوا یک فلسفیانہ مضامین کی اشاعت سے یا مخالفین کی بر پا کردہ شورش سے جماعت احمدیہ عنقریب ختم ہو جائے گی علامہ اقبال نے سید سلمان ندوی کو لکھا: الحمد للہ کہ اب قادیانی فتنہ رفتہ رفتہ کم ہو رہا ہے“ اقبال نامہ نمبر 1 صفحه 109 مکتوب اقبال بنام سید سلیمان ندوی 7 اگست 1936 ء ) 1952ء 72 فرقوں کا اجتماع " آج مرزائے قادیانی کی مخالفت میں امت کے 72 فرقے متحد و متفق ہیں“ ( مولوی اختر علی خاں ابن مولوی ظفر علی خاں اخبار زمیندار 5 نومبر 1952ء) اس سال قادیانیت کو شکست دے دی جائے گی۔۔۔53-1952ء بخاری کا سال۔۔۔۔۔۔مرز محمود کو آگاہ رہنا چاہئے کہ اس کی بڑ کا سال گزر گیا ہے۔لواب 53 ء بخاری کا سال ہے اور میں اپنے مولا کریم کے فضل و کرم سے کہ رہا ہوں کہ تم ہوشیار ہو جاؤ۔آخری فتح میری ہوگی“۔