کافر کون؟ — Page 460
460 آپ کو عرب ممالک کا ترجمان کہا جانے لگا۔1955ء میں آپ کا تقرر عالمی عدالت انصاف میں بطور حج ہوا۔1958ء میں اس عدالت کے نائب صدر رہے۔12 اگست 1961ء کو صدر پاکستان محمد ایوب خان نے آپ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل نمائندہ مقرر کردیا اور ایک بار پھر آپ نے مسئلہ کشمیر کے مسئلہ پر ہندوستانی عزائم کو پوری طرح بے نقاب کیا۔آپ جنرل اسمبلی کے سترھویں اجلاس -63-1962 کے صدر منتخب ہوئے۔مراکش کے شاہ حسن نے مراکش کا اعلیٰ ترین اعزاز آپ کو پیش کیا۔1970ء میں آپ عالمی عدالت انصاف کے سربراہ چنے گئے۔آپ اس عدالت کے پہلے ایشائی صدر تھے۔آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ آپ جنرل اسمبلی کے سترھویں اجلاس کے صدر بنے اور عالمی عدالت انصاف کے صدر بھی۔دنیائے سائنس میں پاکستان کی نمائندگی اور نوبل انعام دنیائے سائنس میں پاکستان ، دنیائے اسلام اور تیسری دنیا کی نمائندگی کرنے والا دنیائے سائنس کے آسمان کا واحد اور درخشندہ ستارہ جس نے اپنے علم اور تحقیق سے دنیا فزکس میں انقلاب کی بنیا د رکھی ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان سے ضلع جھنگ میں ایک احمدی گھرانے میں ہی پیدا ہوا تھا۔سکول تا یو نیورسٹی ہر امتحان میں اول پوزیشن حاصل کرنے کی وجہ سے کیمرج یونیورسٹی میں سکالرشپ ملا اور ریاضی کی اعلی ترین سند ٹرائی پاس میں اول پوزیشن لیکر رینگلر کہلائے۔کیمرج سے ہی آپ نے طبیعات میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کیمرج یونیورسٹی سے انہیں پی۔ایچ۔ڈی سے پہلے سمتھ پرائز بھی دیا گیا۔جو انہیں ڈاکٹریٹ سے پہلے غیر معمولی کارکردگی پر دیا گیا تھا۔1979ء میں آپ نے نوبل پرائز حاصل کیا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے طبیعات کے میدان میں دنیا کے دس اور بڑے اعزاز اور انعام حاصل کئے تھے۔میکس دیل میڈل حاصل کرنے والے وہ پہلے سائنس دان تھے۔انہوں نے سینکڑوں سائنسی مقالے لکھے۔ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز اور تھرڈ ورلڈ نیٹ ورک سائنسیٹیفک آرگنائزیشن کا قیام ہے ان اداروں میں دنیا کے دوسو سے زائد عظیم سائنس دان شامل ہیں جن میں سے 10 نوبل انعام یافتہ ہیں۔ماہنامہ عملی سائنس نے جولائی 1997 ڈاکٹر صاحب کو خراج تحسین یوں پیش کیا: عبد السلام ایک فرد نہیں ایک تحریک کا نام ہے۔علم و دانش کی عمل و جفاکشی اور اپنے تہذیبی ورثہ میں جائے فخر کہ آنے والی نسلیں یقینا ڈاکٹر سلام کا نام اسی پیار و محبت وارفتگی اور فخر سے لیں گی جس طرح آج ہم بوعلی سینا، فارانی ، رازی، ابوالبشیم جیسے نامور سائنس دانوں کے نام فخر سے لیتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی شہرت واہمیت صرف پاکستان کے لیے ناز و افتخار نہیں۔تیسری دنیا میں سب کے لیے ایک روشن جگمگاتے ستارے کی حیثیت رکھتے