کافر کون؟ — Page 453
453 11 اگست کو مزید چار افراد کو اسی طرح کے مقدمے میں گرفتار کر کے اندر کر دیا گیا۔ستمبر 1986 سرگودھا کیس تین احمدیوں کو 2 سال قید با مشقت سنائی گئی۔ان افراد کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے کلمہ بآواز بلند پڑھا تھا۔سٹی مجسٹریٹ ظہیر خان نے ان افراد کو پی۔سی سیکشن 298C کے تحت سزا سنائی۔احمدی درزی کیس پشاور اس کیس کی ابتداء اس F۔IR سے ہوتی ہے کہ جو 9 ستمبر 1985ء کو ہشت نگری پولیس سٹیشن پشاور میں درج کروائی گئی۔محمد اور میں جو درزی کا کام کرتا تھا نے اپنی دوکان پر کلمہ آویزاں کیا تھا۔اس کیس کا فیصلہ تقریباً ایک سال کے بعد ہوا جس کے مطابق محمد ادریس کو 10 ہزار جرمانہ اور 10 سال قید با مشقت سزا سنائی۔درجہ اول مجسٹریٹ خداداد خان مسعود نے اس غیر انسانی سزا پر یہ تو ضرور کہا کہ احمدی آرڈنینس X X کے تحت کلمہ Diplay نہیں کر سکتے مگر یہ بتانے سے قاصر رہے کہ سزا کو اتنے زیادہ سالوں پر محیط کیوں کیا۔اس کا رروائی کے لئے 35 علماء کرام پیش ہوتے رہے۔فرنٹیئر پوسٹ کے مطابق 9 ستمبر 1986ء کو علماء کے بہت بڑے جلوس نے اس خوفناک جرم کے لیے پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔جنرل صاحب کا دور اقتدار یوں یوں سالوں کا سفر طے کرتا 90 دن سے دور ہوتا چلا گیا۔توں توں احمدیوں پر مظالم کا دائرہ تنگ سے تنگ ہوتا گیا۔1984 ء سے شروع ہونے والے اس تاریک دور میں کسی نہ کسی بستی سے احمدی کلمہ گووں کا جیل کی ٹھنڈی سلاخوں کی طرف سفر جاری رہا۔روز کسی نہ کسی بستی میں احمدی گھروں پر لکھے کلمہ طیبہ پہ سرکاری ہتھوڑے برستے رہے۔اور کسی نہ کسی بستی میں احمدی مساجد قرآن مجید سمیت آگ اور شعلوں میں ڈوبتی رہیں درد بڑھتا گیا اور پھر میں نے درد سے پھیلتی ہوئی آنکھوں کو بند کر لیا۔سفاک ظلم سے بچنے کے لیے ایک لمبا فرار حاصل کیا اور 1986ء سے جمپ لیتے ہوئے 2190 دن بعد یعنی 1992ء میں پہنچ گیا۔یقینا میں پاک و مطہر کلمہ طیبہ پر برسنے والے ہتھوڑوں کی آواز سننے کے لیے تیار نہ تھا۔قرآن مجید کے جلتے ہوئے اوراق کو دیکھنے کی سکت نہ رکھتا تھا۔لیکن میری بدنصیبی تھی کہ 2190 دن بھی وطن عزیز میں اسلامی حکومت ہی قائم تھی۔اور اسلامی خدمات کا فریضہ مسلمان رہنماؤں کی مدد سے بطور احسن بغیر تسلسل کے ادائیگی کی کامیاب منازل طے کر رہا تھا۔صرف 1992 ء کا جائزہ درج ذیل تھا۔1992 اس سال کے دوران 150 سے زائد مقدمات احمدیوں کے خلاف درج کروائے گئے۔مقدمات کی وجہ اس