کافر کون؟

by Other Authors

Page 450 of 524

کافر کون؟ — Page 450

450 اس دن کے واقعات کو دیکھ کر سینٹ بارتھولومیوڈئے یاد آتا تھا۔حتی کہ ڈیڑھ بجے دوپہر مارشل لاء کا اعلان کر دیا گیا۔ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ایک دن قبل احمدی مدرس قتل کر دیا گیا تھا۔6 مارچ کو ایک احمدی محمد شفیع بر ما والا مغلپورہ میں ہلاک کردیا گیا اور کالج کے ایک احمدی طالب علم کو بھائی دروازے کے اندر لوگوں نے چھرے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ایک اور احمدی مرزا کریم بیگ کو فلیمنگ روڈ پر چھرا مار دیا گیا۔اور اس کی نعش ایک چتا میں پھینک دی گئی جو فر پیجر کو آگ لگا کر تیار کی گئی تھی۔احمدیوں کی جو جائیداد میں اور دو کا نہیں اس دن لوٹی یا جلائی گئیں وہ یہ تھیں پاک ریز ، شفامیڈیکل اور سوکوموسیٰ اینڈ سنز کی دکان۔راجپوت سائیکل ورکس ملک محمد طفیل اور ملک برکت علی کے چوب عمارتی کے احاطے اور گودام میسن روڈ پر ملک عبدالرحمن کا مکان اور مزنگ اور ٹمپل روڈ پر پانچ احمدیوں کے مکان جن میں شیخ نور احمد ایڈووکیٹ کا مکان بھی شامل تھا۔6 مارچ کی رات عبد الحکیم مالک پایونیر الیکٹرک اینڈ بیٹری سروس کے مکان پر چھاپہ مارا گیا اور ان کی بوڑھی والد قتل کر دی گئی۔جو عام حالات میں قانون وانتظام کے قیام کے ذمہ دار ہوتے ہیں کا ملا بے بس ہو چکے تھے اور ان میں 6 مارچ کو پیدا ہونے والی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی کوئی گنجائش اور اہلیت باقی نہ رہی تھی۔منظم حکومت کی مشینری بالکل بگڑ چکی تھی اور کوئی شخص مجرموں کو گرفتار کر کے یا ارتکاب جرم کو روک کر قانون کو نافذ العمل کرنے کی ذمہ داری لینے پر آمادہ یا خواہاں نہ تھا۔انسانوں کے بڑے بڑے مجمعوں نے جو معمولی حالات میں معقول اور سنجیدہ شہریوں پر مشتمل تھے ایسے سرکش اور جنون زدہ ہجوموں کی شکل اختیار کر لی تھی جن کا واحد جذ بہ یہ تھا کہ قانون کی نافرمانی کریں اور حکومت وقت کو جھکنے پر مجبور کر دیں اس کے ساتھ یہ معاشرے کے ادنی اور ذلیل عناصر موجودہ بدنظمی اور ابتری سے فائدہ اٹھا کر جنگل کے درندوں کی طرح لوگوں کو قتل کر رہے تھے۔ان کے املاک لوٹ رہے تھے اور قیمتی جائداد کونذرآتش کر رہے تھے۔محض اس لیے کہ یہ ایک دلچسپ تما شا تھا یا کسی خیالی دشمن سے بدلہ لیا جارہا تھا۔پوری مشینری جو معاشرے کو زندہ رکھتی ہے پرزہ پرزہ ہو چکی تھی اور مجنون انسانوں کو دوبارہ ہوش میں لانے اور بے بس شہریوں کی حفاظت کرنے کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ سخت سے سخت تدابیر اختیار کی جائیں۔مذہب کا سرطان صفحہ 142 143 $1984 124 اپریل 1984ء کو جنرل ضیاء الحق صاحب نے بطور صدر پاکستان تعزیرات پاکستان میں مزید ترمیم کرتے ہوئے دفعات 298 ب اور 298 ج کا اضافہ کر دیا ترامیم یہ تھیں۔1۔دفعہ 298ب