کافر کون؟ — Page 438
438 کچہریوں کے چکر لگو الگوا کر آخر کار 1991ء میں احمدیوں پر چارج شیٹ لگائی گئی۔3۔مزید دو سال یعنی 1993 ء تک گواہیاں ریکارڈ ہوتی رہیں اور 25 اگست 1993ء کو یہ کام مکمل ہو گیا صرف فیصلہ سنانا باقی تھا۔4۔14 ماہ مزید گزر چکے تھے۔یہاں ایک طرف ان مظلوم احمدیوں پر جیل کی راتیں لمبی ہوتی جارہی تھیں تو دوسری طرف مدعیان اسلام کو ایک احساس بری طرح تڑپا رہا تھا کہ گناہ بڑا ہے جبکہ جرم کی دفعہ چھوٹی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ”خوفناک ملزم تھوڑی سی سزا پا کر پھر کہیں ایسے ہی مزید جرم کے ارتکاب کے لیئے آزاد ہو جائے۔چنانچہ مقدمہ درج ہونے کے 6 سال بعد یعنی 17 اکتوبر 1994 کو یہ مولویان حضرات ایک دفعہ پھر عدالت میں دل کی آہ وزاری کی داستان لیکر پہنچ گئے اور درخواست دی کہ ملزمان کے اس گھناونے جرم کے مقابل پر قانون کی دفعہ 2980 کم ہے جس کی سزا صرف تین سال ہے۔اس لیئے 295c کا اضافہ کیا جائے جس کی سزا موت تھی۔اس درخواست کی سماعت مجسٹریٹ مکرم محمد صدیق صاحب نے 7 مارچ 1995 کو شروع کی اور 19 مارچ 1995 کو فیصلہ بھی سنادیا کہ واقعہ زیادتی ہوئی ہے جرم بہت بڑا ہے جو دفعہ 295 میں آتا ہے۔جو اس عدالت کے دائرہ اکار سے باہر ہے۔اور مسل مقدمہ سیشن جج شیخو پورہ کو بھجوادی۔5۔اس طرح یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج شیخو پورہ محد محمود چوہدری صاحب کی عدالت میں پیش ہوا جنہوں نے فیصلہ دیا کہ اس مقدمہ میں اس گناہ پر 295C کا اطلاق نہیں ہوتا۔لہذا ٹرائل مجسٹریٹ صاحب فیصلہ 298C کے تحت سنا دیں۔6 مگر ٹرائل مجسٹریٹ محمد صدیق صاحب نے 29 اگست 1995ء کو ایک بار پھر فیصلہ سنادیا کہ اس گناہ پر توہین رسالت 295C ہی لگتی ہے اور مسل دوبارہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شیخو پورہ کو بھجوا دی۔7۔اب کی بار ایڈیشنل سیشن جج محمد محمود چوہدری صاحب تبدیل ہو چکے تھے اب ان کی جگہ رانا زاہد محمود مقرر ہوئے تھے چنانچہ مقدمہ ان کی عدالت میں پیش ہوا۔احمدی احباب کے وکیل نے پیش ہو کر 17 دسمبر 1995ء کو درخواست دی کہ چونکہ لوئر کوٹ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اس مقدمہ میں دفعہ 298C( جس کی سزا 3 سال) کا اطلاق نہیں ہوتا اس لیے مجسٹریٹ کو حکم دیا جائے کہ وہ پہلے 298C کے بارے میں حتمی فیصلہ فرما دیں مگر سیشن جج نے مورخہ 15 جولائی 1997ء کو یہ درخواست مسترد کر دی۔8۔اس کے بعد ہائی کورٹ رجوع کیا گیا۔ہائی کورٹ میں 29 جولائی اور 31 جولائی کو بحث ہوئی۔جسٹس محمد نعیم صاحب نے اپنے فیصلہ میں اس بڑے گناہ کے لیے 298C کو نا کافی قرار دیتے ہوئے 295C کو برقرار