کافر کون؟

by Other Authors

Page 439 of 524

کافر کون؟ — Page 439

439 رکھنے کا حکم صادر فرمایا اور ساتھ ہی ایڈیشنل سیشن جج رانا زاہد محمود کو اس مقدمہ کی سماعت کرنے اور 30 دسمبر 97ء تک فیصلہ فرمانے کا حکم دے دیا۔9۔ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی اور ساتھ ہی اپیل کے دوران Stay Order کی درخواست کی گئی۔مگر سپریم کورٹ کے جسٹس نثار صاحب نے نہ صرف اپیل خارج کردی بلکہ رانا زاہد محمود صاحب کو کہا کہ کیس کا فیصلہ 30 نومبر 1997ء ( یعنی مزید ایک مہینہ جلدی) تک کر دیا جائے۔10۔چنانچہ یکم دسمبر 1997ء کو رانا زاہد محمود نے فیصلہ صادر فرمایا کہ ملزمان کو 25-25 سال قید با مشقت اور 50-50 ہزار جرمانہ عدم ادائیگی کی صورت میں 2، 2 سال مزید قید۔نوٹ: 88ء میں جب یہ مقدمہ شروع ہوا تو 295C کی سزا موت تھی مگر جب 1997ء میں فیصلہ ہوا تو قانون بدل کر سزا عمر قید ہو چکی تھی۔اس لیے صرف عمر قید سزا ہوئی۔ی احمدی ملزمان 10 سال تک عدالتوں کی خاک چھان چھان کر اور انصاف کے ایوانوں میں حاضریاں دے دے کر آخر 25 ، 25 سال سزا یعنی عمر قید کا پروانہ لیکر شیخو پورہ جیل کی اندھی سنسان کال کوٹھڑیوں کی طرف روانہ ہو چکے ہیں۔شرق پور کے ان خوفناک ملزمان کو یہیں چھوڑ کر اسلام آباد کے شرفاء ملزمان کی طرف چلتے ہیں۔24 اکتوبر 1996ء کی شام سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل کی نواسی اپنے سکول فرا بلز انٹر نیشنل سے واپس آئی اور اپنی امی عظمی گل کو بتایا کہ ان کے سکول میں اسلامیات کے نام پر کیا کیا عجیب و غریب اشیاء پڑھائی جارہی ہیں۔( تفصیل آگے بتاتے ہیں) عظمی گل صاحبہ یہ سب سن کر بہت حیران ہوئیں اور فوراً تھا نہ کو ہسار میں مقدمہ درج کروانے پہنچ گئیں۔مدعیا اگر جنرل حمید گل صاحب کی صاحبزادی تھیں تو نامزد ملزمان بھی کوئی شرق پور کے غرباء نہیں تھے۔نتیجہ صاف ظاہر ہے تھانے دار صاحب نے مقدمہ درج کرنے سے صاف انکار کر دیا۔لیکن اگر جناب مکرم سعد خان صاحب محترمہ صبح ضمیر صاحبہ وایڈ مرل ضمیر صاحب کے فرزند ارجمند اور جناب ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب آف اٹامک انرجی کے داماد گرامی و مالک فرا بلز انٹرنیشنل اسکول واقع ایف سیون ٹو اسلام آباد تھے تو جناب عظمی گل صاحب بھی آئی ایس آئی کے پاور فل ترین ڈی جی کی صاحبزادی تھیں۔نتیجہ وہی ہوا اسلام آباد پور انعروں کی زد میں آگیا۔26اکتوبر 1996ء کی صبح ، 80 کے قریب وکلاء آف اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے ایک قرار داد منظور کی اور