کافر کون؟

by Other Authors

Page 435 of 524

کافر کون؟ — Page 435

435 مسرت شاہین کے سیاست میں چلے جانے کے باعث اب تو سنیتا خان بابر اراج اور شہناز کے درمیان مقابلہ ہے۔اس مقابلے میں شہزادی ، آنچل ، اور شبانہ خان بھی شامل ہو چکی ہیں مگر اصل مقابلہ صرف بابرا راج اور سنیتا خان کو اپنے خوبصورت جسم کی بدولت بابرہ راج پر برتری حاصل ہے۔کیونکہ با برا راج اپنے جسم پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکی ہے اور وہ اس کے برعکس سنیتا خان اپنے گورے چٹے خوبصورت بدن کی بدولت اور عریانیت سے بھر پور کام کرنے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔۔۔۔سنیتا خان کے مقابلے پر اب کوئی اور نہیں ہے؟ سیکس کا میدان میں ویسے تو بہت سی اداکارائیں موجود ہیں جن میں چکوری ، میرا ہیلی ، سائرہ خان ، اور سب سے بڑھ کر ریشم مگر ان کے مقابلے میں جسمانی لحاظ سے سب۔پرکشش ادکارہ صرف اور صرف سنیتا خان ہی ہے۔جس کی سنیما اسکرین پر پہلی ہی انٹری قیامت برپا کر دیتی ہے اور وہ واحد فنکارہ ہے جس کو پورے پاکستان کے شائقین پسند کرتے ہیں۔اب یہ بات بھی اخبارات میں فلموں میں کام کرنے پر پابندی لگادی ہے اور اس نے ایک خاص فلم میں بھی کام کیا ہے یہ فلم بہت جلد منظر عام پر آئے گی آپ کو تو انتظار ہوگا ہم بھی اس فلم کے انتظار میں ہیں۔“ تبصرہ پکچر پوسٹ، چترالی ، میڈ یا سٹائل اور پتہ نہیں کیا کیا اور کون کون سے ماہانہ رسالہ جات ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں اسلامی مملکت خداداد سے ڈیکلریشن حاصل کر کے شائع ہورہے ہیں۔مسلمان بھائی شائع فرمارہے ہیں۔مسلمان بھائی مطالعہ فرما کر علم میں اضافہ فرما رہے ہیں اور مسلمان مستورات نگارخانوں میں یہ خبریں اور انٹرویو دینے کے لیے دن مصروفیات میں مشغول ہیں۔طبیعت پر اگر گراں نہ گزرے تو پوچھ سکتا ہوں کہ کیا یہ سب عین اسلامی حرکات ہیں؟ کیا یہ خدمت اسلام ہو رہی ہے؟ کیا ان افعال سے دلی جذبات مجروح نہیں ہوتے؟ اور توہین رسالت بھی نہیں ہوتی۔بسم الله الرحمن الرحیم والا خط ڈاک خانہ سے چوری کروا کے اس پر دلی جذبات مجروح کروانے والے دوستو نگار خانوں میں افعال پذیر ہونے والے یہ اعمال کہیں مکافات عمل تو نہیں بقول مولانا ابوالحمدضیاء القادری ختم شریف کے چاول حرام ہوں تو عورت کی منی پاک معلوم ہونے لگتی ہے۔منظور ہے یہ تلخی یہ ستم ہم کو گورا دم ہے تو مدادائے الم کرتے رہیں گے مے خانہ سلامت ہے تو ہم سرخی مے سے تزئین دروبام حرم کرتے رہیں گے اسلامی مملکت خداداد کی اسلامی پہیلی بوجھیے اور سوچئے