کافر کون؟ — Page 427
427 عورتوں کی خرید وفروخت میں ملوث یا ان سے جبری شادی کرنے والے افراد کو گرفتار کیا جائے تاہم جام پور ضلع را جن پور کے تھانے میں پولیس نے موقع غنیمت جان کر خوب چاندی بنائی اور ملزمان کے خلاف کسی حقیقی کارروائی کے بجائے ہزاروں روپے رشوت لے کر فرضی اور کاغذی کارروائی کر کے انہیں چھوڑ دیا۔اس دوران نمائندہ تکبیر کو مختلف با اثر جرائم پیشہ افراد کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں جس پر مقامی پولیس نے ابتدائی کارروائی کو کافی جانتے ہوئے رپورٹ نمبر 8 درج کر لی لیکن ان افراد کی طرف سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔رپورٹ کی اشاعت کے بعد ملزمان زیر زمین چلے گئے تھے مگر عورتوں کی خرید و فرخت کا یہ دھندا آج کل پھر زور پکڑ گیا ہے اور اب بنگلہ دیشی عورتوں کی خرید فروخت کی بجائے ملزمان نے مقامی بے سہارا اور غریب لڑکیوں کو اپنا ہدف بنایا ہے اور انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے ورغلاء کر اغواء کرنے اور بیرون ملک فروخت کر دینے کا کاروبار جاری ہے۔ان ملزمان نے جنوبی پنجاب خصوصاً ڈیرہ غازی خان ڈویژن کو اپنا ہدف بنایا ہے گروہ کے ارکان نہ صرف شریف خاندانوں کی غریب لڑکیوں اور مجبور عورتوں کو ملازمتوں کا جھانسہ دے کر ہمسایہ ممالک میں لے جا کر فروخت کرتے ہیں بلکہ بدکاری کے اڈوں سے بھی لڑکیوں کو سیر و تفریح کے بہانے لے جا کر ڈیرہ غازی خان کے راستے بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں بھاری رقم کے عوض فروخت کر دیا جاتا ہے۔وہاں سے علاقہ غیر کے بعض افرادان بے سہارا عورتوں کی منڈی لگا کر مہنگے داموں فروخت کر دیتے ہیں یا پھر انہیں کرائے پر دے دیتے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ ایسی متعد دلڑکیاں ان علاقوں میں ظلم و ستم سہتے ہوئے ہلاک ہو چکی ہیں۔چند ماہ قبل ملتان سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک گروہ کا سراغ اسٹنٹ کمشنر بارکھان نے لگایا ہے۔انہوں نے مسلح فورس کے ہمراہ بارکھان اور مختلف قبائلی علاقوں سے ملتان کی متعدد ایسی لڑکیوں کو برآمد کیا ہے جو مختلف بہانوں کے ذریعے بدکاری کے اڈوں سے یہاں لائی گئی تھیں اور بعد ازاں انہیں بھاری رقوم کے عوض آگے فروخت کر دیا گیا۔دن کے وقت ان عورتوں سے بیگار لی جاتی اور رات کو علاقے کے لوگ انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتے۔ایک ٹیکسی ڈرائیور شیراز نے اس گروہ کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ایک روز ملتان ریلوے اسٹیشن سے اس کی گاڑی، تین افراد محمد آصف، محمد بلال اور محمد ارشد نے کرائے پر حاصل کی اور کہا کہ وہ اپنی فیملی کے ہمراہ فورٹ منر وسیر و تفریخ کے لئے جانا چاہتے ہیں کرایہ طے ہو جانے کے بعد ان افراد کے ہمراہ نشتر روڈ پہنچا جہاں ایک ہوٹل سے تین لڑکیاں جن کے نام بعد میں گلنار، صائمہ، اور زبیدہ معلوم ہوئے گاڑی میں سوار ہو گئیں شام ڈھلے ہم فورٹ منرو پہنچ گئے۔ان افراد نے بہانے سے رکنی تک جانے کو کہا ر استے میں موجود پولیس چیک پوسٹ والوں نے چیک کیا اور آگے جانے