کافر کون؟ — Page 415
415 وطن عزیز میں جاری ایک دلچسپ عوامی کھیل کا آنکھوں دیکھا حال روز نامہ نوائے وقت کی زبانی: وطن عزیز کے گلی کوچوں میں کرکٹ میچوں پر جو الگانے کی و با تیزی سے پھیل رہی ہے ، اور اس وقت لاہور میں کرکٹ جوئے کے سینکڑوں خفیہ اڈے ہیں جو ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرتے جارہے ہیں جہاں بیٹھے ” بکیوں سے رابطے کا ذریعہ ٹیلی فون ہیں جوں ہی میچ شروع ہو گھنٹیاں بجنی شروع ہو جاتی ہیں۔اور یہ سلسلہ میچ کے ختم ہونے تک جاری رہتا ہے۔اور عام طور پر جوا اس میچ پر لگایا جاتا ہے جس میں پاکستان بھی کھیل رہا ہوا گر قومی ٹیم کا میچ روایتی حریف بھارت سے ہو تو جوا بڑے پیمانے پر ہوتا ہے اور اس کا ریٹ بھی بڑھ جاتا ہے جس میں پیسوں کے ساتھ جذبات کا جو ابھی لگا ہوتا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو ا صرف کھلاڑی ہی کھیلتے ہیں یا لوگ ، دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ قومی ٹیم کی صرف فتح پر ہی نہیں بلکہ شکست پر بھی جو الگاتے ہیں۔اور اکثریت کی فتح پر جوا کھیلاتی ہے اور جب ٹیم جیت جاتی ہے تو امن وسکون رہتا ہے کیونکہ ٹیم کی شکست پر جو الگانے والوں کی تعداد کم ہوتی ہے لیکن جب ٹیم ہارتی ہے تو سخت رد عمل سامنے آتا ہے۔کبھی جلوس نکال کر کھلاڑیوں کے خلاف نعرہ بازی کی جاتی ہے اور کبھی ان کے گھروں پر پتھراؤ کیا جاتا ہے بلکہ اس بار تو شارجہ کپ میں شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو بم سے اڑانے کی ٹیلی فون دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔اس وقت پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں کا خصوصاً لا ہور کا چائے کا کوئی کھوکھا یا پان کی کوئی دکان یا چھوٹے بڑے ہوٹل ایسے نہیں جہاں کرکٹ سیزن کے دوران جوا نہ ہوتا ہو۔جوئے کی اس لعنت نے چھوٹے بڑے تمام کو بری طرح اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، خصوصا نئی نسل تو بری طرح شکار ہے بکیوں نے اسے کاروبار ، امراء نے اسے شغل اور غریب طبقے نے آسان روزگار بنا لیا ہے، لیکن عالمی سطح پر بدنامی کس کی ہو رہی ہے اس پاک وطن کی جو پہلے ہی کئی مشکلات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔“ تبصره (نوائے وقت 3 جنوری 1998 ء ) | گلی کوچوں ، چھوٹے بڑے شہروں، چائے پان کے کھوکھوں سے لیکر محلات تک میں یہ جاری کھیل یقینا ایک نفع مند اور عین اسلامی کھیل ہی ہوگا؟ کلمہ طیبہ مسجد پر لکھنے، اُسے مٹا دینے کے بعد پھر کلمہ لکھنے ، پہلی دفعہ بھی جیل اور پھر دوسری دفعہ بھی جیل اور پھر تیسری دفعہ بھی جیل کی سلاخیں۔کلمہ طیبہ دیکھ کر جذبات مجروح کروانے والو اور جوئے کی لعنت پر دم سادھ لینے والو