کافر کون؟

by Other Authors

Page 389 of 524

کافر کون؟ — Page 389

389 و آمین بالجبر کا اختلاف یہاں نہ عمل بالقرآن کی بحث تھی نہ استناد بالحدیث کی۔اور نہ صرف ایک نظریہ سامنے تھا اور وہ یہ کہ اسلام نام ہے صرف اسوہ رسول کی پابندی کا۔اور اس عملی زندگی کا۔اس ایثار و قربانی کا۔اس محبت و رافت کا۔اس اخوت ہمدردی کا اور اس حرکت و عمل کا جو رسول اللہ کے کردار کی تنہا خصوصیت اور اسلام کی تنہا اساس و بنیا تھی۔مرزا غلام احمد صاحب نے اسلام کی مدافعت کی اور اس وقت کی جب کوئی بڑے سے بڑا عالم دین بھی دشمنوں کے مقابلے میں آنے کی جرات نہ کر سکتا تھا۔انہوں نے سوتے ہوئے مسلمانوں کو جگایا۔اٹھایا اور چلایا یہاں تک کہ وہ چل پڑے۔اور ایسا چل پڑے کہ آج روئے زمین کا کوئی گوشہ نہیں جو ان کے نشانات قدم سے خالی ہو اور جہاں وہ اسلام کی صحیح تعلیم نہ پیش کر رہے ہوں۔(نگار اکتوبر 1960 ، صفحہ 44-45 اگر مندرجہ بالا تمام علماء کرام کے احمدی جماعت کو مسلمانوں کا ہی حصہ سمجھنے کے باوجود اگر جماعت احمدیہ کے سو سالوں میں آریہ سماج عیسائیوں اور ملحدین کے سامنے اپنے آپ کو وکیل اسلام بنا کر پیش کرنے کے باوجود اگر سینکڑوں زبانوں میں تراجم قرآن و حدیث کر کے پوری دنیا میں پھیلانے کے باوجود سینکڑوں نہیں ہزاروں مساجد تعمیر کرنے کے باوجود لاکھوں مشرکین ملحدین و نصاری کو کلمہ توحید پڑھانے کے باوجود افریقہ کے تاریک جنگلات اور پر تپش صحراؤں سے لیکر امریکہ و آسٹریلیا تک تبلیغ اسلام کے جھنڈے گاڑنے کے باوجود ح ہر محاذ پر خدمت اسلام کرنے کے باوجود 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی سیاسی قومی اسمبلی میں قانون کے ذریعہ 72 فرقوں نے متفقہ طور پر احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا ہے تو یقیناً اس کی وجوہات ہوں گی۔اور وہ یہ کہ باقی تمام فرقے جنہوں نے متفقہ طور پر احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ان کے اپنے عقائد عین اسلام قرآن اور شریعت کے مطابق ہوں گے۔ا باقی تمام فرقے جنہوں نے احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا خود ایک دوسرے کے نزدیک مستند مسلمان ہوں گے۔ا وہ اسمبلی جس نے احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا یقینا متقی پرہیز گار، قال اللہ اور قال الرسول